تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 51

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة ال عمران الحکم جلد ۹ نمبر ۴۲،مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲) کیا بات ہوئی؟ قرآن شریف سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے اور قرآن شریف پر ہم ایمان لاتے ہیں پھر قانون قدرت میں ہم اس کے برخلاف کوئی دلیل نہیں پاتے۔کیونکہ سینکڑوں کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں جو نہ باپ رکھتے ہیں اور نہ ماں۔قرآن شریف میں جہاں اس کا ذکر ہے وہاں خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کے دو عجائب نمونوں کا ذکر کیا ہے ؛ اول حضرت زکریا کا ذکر ہے کہ ایسی پیرانہ سالی میں، جہاں کہ بیوی بھی بانجھ تھی خدا نے بیٹا پیدا کیا اور اس کے ساتھ ہی یہ دوسرا واقعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ایک اور قدرت عجیبہ کا نمونہ ہے اس کے ماننے میں کونسا ہرج پیدا ہوتا ہے؟ قرآن مجید کے پڑھنے سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح بن باپ ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ نے كَمَثَلِ آدم جو فرمایا اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس میں ایک عجوبہ قدرت ہے جس کے واسطے آدم کی مثال کا ذکر کرنا پڑا۔( بدر جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۱۶ رمئی ۱۹۰۷ء صفحه ۳) إذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ مسیح بن باپ پیدا ہوئے اور قرآن شریف سے یہی ثابت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام ) یہود کے واسطے ایک نشان تھے جو ان کی شامت اعمال سے اس رنگ میں پورا ہوا، زبور اور دوسری کتابوں میں لکھا گیا تھا کہ اگر تم نے اپنی عادت کو نہ بگاڑا تو نبوت تم میں رہے گی مگر خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ اپنی حالت کو بدل لیں گے اور شرک و بدعت میں گرفتار ہو جائیں گے جب انہوں نے اپنی حالت کو بگاڑا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق یہ تنبیبی نشان ان کو دیا اور مسیح کو بن باپ پیدا کیا۔اور بن باپ پیدا ہونے کا سر یہ تھا کہ چونکہ سلسلہ نسب کا باپ کی طرف (سے) ہوتا ہے تو اس طرح گو یا سلسلہ منقطع ہو گیا اور اسرائیلی خاندان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی کیونکہ وہ پورے طور سے اسرائیل کے خاندان سے نہ رہے : مُبَشِّرًا بِرَسُولِ ورو يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُةَ أَحْمَدُ (الصف:۷) میں بشارت ہے۔اس کے دو ہی پہلو ہیں یعنی ایک تو آپ کا وجود ہی بشارت تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے خاندان نبوت کا خاتمہ ہو گیا، دوسرے زبان سے بھی بشارت دی یعنی آپ کی پیدائش میں بھی بشارت تھی اور زبانی بھی ، انجیل میں بھی مسیح نے باغ کی تمثیل میں اس امر کو بیان کر دیا ہے اور اپنے آپ کو مالک، باغ کے بیٹے کی جگہ ٹھہرایا ہے۔بیٹے کا محاورہ انجیل اور بائیل میں عام ہے اسرائیل کی نسبت آیا ہے کہ اسرائیل فرزند من بلکہ نخست زاده من است، آخر اس تمثیل میں