تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 49

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ سورة ال عمران وَمِنَ الْمَعْلُومِ أَنَّ مَرْيَمَ وُجِدَتْ اور یہ بات معلوم ہے کہ حضرت مریم نکاح سے قبل حَامِلًا قَبْلَ النِّكَاحِ، وَمَا كَانَ لَهَا أَنْ حاملہ پائی گئیں اور اس عہد کی وجہ سے جو ان کی والدہ نے تَتَزَوَّجَ لِعَهْدِ سَبَقَ مِنْ أُمَّهَا بَعْدَ اپنے حاملہ ہونے کے بعد کیا تھا حضرت مریم کی مجال نہیں تھی الْإِجْحَاحِ فَالْأَمْرُ مَحْصُورٌ في کہ نکاح کرتیں۔ پس اہل بصیرت کے نزدیک اس معاملہ کی دو الْإِحْتِمَالَيْنِ عِنْدَ ذَوِی الْعَيْنَيْنِ إِمَّا صورتیں ممکن ہیں اول یا تو یہ کہا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام أَنْ يُقَالَ إِنَّ عِيسَى خُلِقَ مِنْ كَلِمَةِ خدائے علّام کے کلمہ سے پیدا ہوئے تھے یا نعوذ باللہ ! یہ کہا اللهِ الْعَلامِ ، أَوْ يُقَالَ وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْهُ جائے کہ وہ ولد الحرام تھے اور ہمیں اس کی کوئی وجہ نظر نہیں إِنَّهُ مِنَ الْحَرَامِ وَلَا نَجِدُ سَبِيلًا إلى آتی کہ حضرت مریم کا حمل نکاح کے نتیجہ میں قرار دیا جائے ۔ حَمْلِ مَرْيَمَ مِنَ النِّكَاحِ فَإِنَّ أُمَّهَا کیونکہ ان کی والدہ نے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس کو كَانَتْ عَاهَدَتِ اللهَ أَنَّهَا يَتْرُكُها نکاح سے آزاد رکھیں گی اور بیت المقدس کی خادمہ بنائیں مُحَرَّرَةً سَادِئَةً، وَكَانَتْ عَهْدُهَا هَذَا فِي گی ۔ انہوں نے یہ عہد اپنے حمل کے ایام میں کیا تھا اور ہم أَيَّامِ اللقَاحِ وَهُذَا أَمْرُ تَكْتُبُهُ مِنْ یہ بات قرآن کریم اور انجیل کی شہادت کی بنا پر لکھتے ہیں شَهَادَةِ الْقُرْآنِ وَالْإِنْجِيلِ، فَلَا تَتْرُكُوا پس تم حق اور فلاح کا رستہ ترک نہ کرو۔ یہ تفصیل اس شخص سَبِيلَ الْحَقِّ وَالْفَلَاحِ هَذَا لِمَن کے لئے ہے جس کی فطرت وضاحت کا تقاضا کرتی ہے اور اسْتَوْضَحَتُهُ فِطْرَتُهُ وَلَا تَقْبَلُ خَارِقَ اس کی طبیعت کسی خارق عادت امر کو قبول نہیں کرتی ۔ مگر ہم الْعَادَةِ عَادَتُهُ وَأَمَّا نَحْنُ فَنُؤْمِنُ تو خدائے بزرگ و برتر کی کامل قدرت پر ایمان رکھتے ہیں بِكَمَالِ قُدْرَةِ اللهِ الْأَعْلَى، وَنُؤْمِنُ بِأَنَّهُ اور اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو إِن يَشَاءَ يَخْلُقُ مِنْ وَرَقِ الْأَشْجَارِ درختوں کے پتوں سے بھی عیسی کی مانند پیدا کر سکتا ہے۔ كَمِثْلِ عِيسَى وَكَمْ مِنْ دُودٍ في دیکھوزمین میں کتنے ہی ایسے کیڑے ہیں جو بغیر ماں باپ کے الْأَرْضِ لَيْسَ لَهَا أَبَوَانِ، فَأَيُّ عَجَبِ پیدا ہو جاتے ہیں ۔ پس اے لوگو تمہیں حضرت عیسی علیہ السلام يَأْخُذُ كُمْ مِنْ خَلْقٍ عِيسَى يَا فِتْيَانُ ؟ کی بن باپ پیدائش میں کیا تعجب ہوتا ہے۔ مواهب الرحمن، روحانی خزائن جلد ۱۹ ، صفحه ۲۹۶،۲۹۵) ( ترجمه از مرتب ) میں ہمیشہ سے اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ بے باپ پیدا ہوئے تھے اور ان کا بے باپ