تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 46

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶ سورة ال عمران بلکہ اس کے قدیم قانون قدرت سے بھی مغائر اور مبائن اور پھر ایک بے ثبوت امر ہے مگر واقعی اور سچی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس بدبخت قوم کے ہاتھ سے نجات پا کر جب ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے فخر بخشا تو اس ملک میں خدائے تعالیٰ نے ان کو بہت عزت دی اور بنی اسرائیل کی وہ دس قو میں جو گم تھیں اس جگہ آکر ان کو مل گئیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس ملک میں آ کر اکثر ان میں سے بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے اور بعض ذلیل قسم کی بت پرستی میں پھنس گئے تھے۔سواکثر ان کے حضرت مسیح کے اس ملک میں آنے سے راہ راست پر آگئے۔اور چونکہ حضرت مسیح کی دعوت میں آنے والے نبی کے قبول کرنے کے لئے وصیت تھی اس لئے وہ دس فرقے جو اس ملک میں آ کر افغان اور کشمیری کہلائے ، آخر کار سب کے سب مسلمان ہو گئے۔غرض اس ملک میں حضرت مسیح کو بڑی وجاہت پیدا ہوئی اور حال میں ایک سکہ ملا ہے جو اسی ملک پنجاب میں سے برآمد ہوا ہے، اس پر حضرت عیسی علیہ السلام کا نام پالی تحریر میں درج ہے اور اُسی زمانہ کا سکہ ہے جو حضرت مسیح کا زمانہ تھا۔اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آکر شاہانہ عزت پائی اور غالباً یہ سکہ ایسے بادشاہ کی طرف سے جاری ہوا ہے جو حضرت مسیح پر ایمان لے آیا تھا۔ایک اور سکہ برآمد ہوا ہے اس پر ایک اسرائیلی مرد کی تصویر ہے، قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی حضرت مسیح کی تصویر ہے۔قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے کہ مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے گا وہ مبارک ہوگا۔سو ان سکوں سے ثابت ہے کہ اُس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی۔مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۳، ۵۴) جس طرح جناب مسیح علیہ السلام کی نسبت سنگدل یہود نے نہایت حقارت سے ذکر کرنا اور ان پر نا گفتہ بہ الزامات لگانے کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا اور کوئی بھی صاحب بصیرت اور غیرت کا حامی ایسا نہ تھا جو جناب روح اللہ کی عزت و آبرو کو ان بے ایمانوں کے ہاتھ سے بچانے کی کوشش کرتا اور آخر کار بنی آدم کا ایک حقیقی خیر خواہ اور تمام راستبازوں کا زبردست حامی (اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاجْعَلْنِي فِدَاهُ وَوَفِّقْنِي لا سَاعَةِ مَا جَاءَ بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) دنیا میں آیا جس نے وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَ الأخرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ کی بشارت سنا کر ان کی کھوئی ہوئی عزت کو پھر بحال کیا۔مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۰ حاشیه )