تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 45

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۵ سورة ال عمران کہ بعض انبیاء جو : لم نقصص (المؤمن : ۷۹) میں داخل ہیں وہ اُن سے بہتر اور افضل ہوں گے۔اور جیسا کہ حضرت موسیٰ کے مقابل پر آخر ایک انسان نکل آیا جس کی نسبت خدا نے : عَلَيْنَهُ مِنْ لَدُنَا عِلمًا ( الكهف : ٢٢) فرمایا تو پھر حضرت عیسی کی نسبت جو موسیٰ سے کم تر اور اُس کی شریعت کے پیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے اور ختنہ اور مسائل فقہ اور وراثت اور حرمت خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع تھے کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بالا طلاق اپنے وقت کے تمام راستبازوں سے بڑھ کر تھے۔جن لوگوں نے اُن کو خدا بنایا ہے جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ نخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف، نام کے مسلمان وہ اگر اُن کو اُوپر اُٹھاتے اُٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو اُن کو اختیار ہے۔انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔۔۔۔۔۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بیٹی کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوجنا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے تو بہ کی تھی اور اُن کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے۔اور یہ بات حضرت یحی کی فضیلت کو بداہت ثابت کرتی ہے کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ بیٹی نے بھی کسی کے ہاتھ پر تو بہ کی تھی۔پس اُس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسی اور اُس کی ماں میں شیطان سے پاک ہیں اس کے معنے نادان لوگ نہیں سمجھتے۔اصل بات یہ ہے کہ پلید یہودیوں نے حضرت عیسی اور اُن کی ماں پر سخت نا پاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذ باللہ ! شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔سو اس افترا کارڈ ضروری تھا۔پس اس حدیث کے اس سے زیادہ کوئی معنے نہیں کہ یہ پلید الزام جو حضرت عیسی اور اُن کی ماں پر لگائے گئے ہیں یہ میچ نہیں ہے بلکہ ان معنوں کر کے وہ میش شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو بھی پیش نہیں آیا۔دافع البلاء و معیار اصل الاصطفاء ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۹، ۲۲۰ حاشیه ) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت اور مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرو دوس اور پلاطوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی اور یہ خیال کہ دنیا میں پھر آ کر عزت اور بزرگی پائیں گے، یہ ایک بے اصل وہم ہے جو نہ صرف خدائے تعالی کی کتابوں کے منشاء کے مخالف