تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 44

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ سورة ال عمران مه نور می فشاند و سگ بانگ می زند سگ را پرس خشم تو باماہتاب چیست اور یہ بھی سوچو کہ اگر وجاہت کے لئے دُنیا داروں کی اطاعت اور تعظیم شرط ہے تو کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے کفار کے ہاتھ سے نکالے گئے اور دُکھ دیئے گئے تو کیا اُس وقت آپ وجیہ نہ تھے؟ اور مکہ کی فتح کے بعد وجیہ ہوئے ؟ غرض آپ کا یہ اعتراض دینی اور روحانی دور اندیشی کی بنا پر نہیں بلکہ دنیا داری اور رسم اور عادت کے گندے تصورات سے پیدا ہوا ہے۔بہتیرے نبی دنیا میں ایسے آئے کہ دو آدمیوں نے بھی اُن کو قبول نہیں کیا تو کیا وہ وجیہ نہیں تھے؟ اور حضرت مسیح علیہ السلام کب قبولیت سے بکلی خالی رہے تھے ؟ صد با لوگوں نے اُن کو قبول کر لیا، سیمی علیہ السلام نے مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا، حواریوں نے قبول کیا، تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک بادشاہ نے بھی قبول کیا تھا۔اس بات کے عیسائی بھی قائل ہیں۔اب اس سے زیادہ اور کیا وجاہت ہوگی۔یہ وجاہت تو ان کو اپنے زمانے میں حاصل ہوئی یہاں تک کہ انجیل میں لکھا ہے کہ صد با آدمی اہلِ حاجت، نیاز مندی کے ساتھ اُن کے گرد رہتے تھے اور ہجوم کی وجہ سے بعض دفعہ ان کو ملنا مشکل ہو جاتا تھا اور اگر چہ بعض مولوی یہودیوں نے ان کو کافر کہا مگر جس زور شور سے مسیح موعود کی تکفیر ہوئی ایسی تکفیر حضرت عیسی کی نہیں ہوئی بلکہ انجیل سے ثابت ہے کہ اکثر کفار کے دلوں میں بھی حضرت عیسی کی وجاہت تھی اور پھر موت کے بعد تو وہ وجاہت ہوئی کہ خدا بنائے گئے اور ہمارے مخالف مولویوں کو تو یہ اقرار کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی خدا بننے کی وجاہت بھی دیکھ لی اور دیکھ رہے ہیں کیونکہ اُن کے عقیدہ کے رُو سے وہ اب تک زندہ موجود ہیں اور یورپ کے تمام طاقتور بادشاہ مع اپنے ارکان دولت کے اُن کو خدائے ذوالجلال مانتے ہیں کیا ایسی وجاہت کسی دوسرے انسان کی ہوئی ؟۔ایام اصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه، ۴۱۲ تا ۴۱۴) ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السّلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر بعض راستباز اپنی راستبازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی نسبت فرمایا ہے : وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ جس کے یہ معنی ہیں کہ اُس زمانہ کے مقربوں میں سے یہ بھی ایک تھے۔اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ سب مقربوں سے بڑھ کر تھے بلکہ اس بات کا امکان نکلتا ہے کہ بعض مقرب اُن کے زمانہ کے اُن سے بہتر تھے۔ظاہر ہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آئے تھے اور دوسرے ملکوں اور قوموں سے اُن کو کچھ تعلق نہ تھا۔پس ممکن ، بلکہ قریب قیاس ہے