تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 43

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ سورة ال عمران ہے؟ ماسوا اس کے مسیح علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ آنا کسی طرح موجب وجاہت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے عقیدے کے موافق اپنی حالت اور مرتبہ سے متنوّل ہو کر آئیں گے، امتی بن کے امام مہدی کی بیعت کریں گے، مقتدی بن کر اُن کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔پس یہ کیا وجاہت ہوئی؟ بلکہ یہ تو قضیہ، معکوسہ اور نبی اولو العزم کی ایک ہتک ہے اور یہ کہنا کہ ان سب باتوں کو وہ اپنا فخر سمجھیں گے بالکل بے ہودہ خیال ہے لیکن اگر آسمان سے نازل نہ ہوں تو یہ اُن کی وجاہت ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : في مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ (العمر (۵۶) غرض واپس آنے میں کوئی وجاہت نہیں بلکہ بقول شیخ سعدی سخت است پس از جاہ تحکم بردن۔دوسرے کے حکم کے نیچے اسلام کی خدمت کریں گے اور مسجد دصاحب اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ : ”علماء اسلام ان کے منکر ہو جائیں گے اور قریب ہے کہ اُن پر حملہ کریں۔دیکھو یہ خوب وجاہت ہے کہ ادنی ادنی ملا مقابلہ کے لئے اُٹھیں گے اور آثار سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ بیج الکرامہ میں ہے کہ اُن کی تکفیر بھی ہوگی کیونکہ مہدی اور اُس کی جماعت پر کفر کا فتویٰ لکھا جائے گا اور علماء امت اس کو کافر اور کذاب اور دجال کہیں گے۔پس جب کہ مہدی موعود مع اپنی جماعت کے کافر اور دجال ٹھہرائے جائیں گے تو اس سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ لگے گا کیونکہ وہ مہدی اور اس کی جماعت سے الگ نہیں ہوں گے۔اب دیکھو! کہ آثار صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود کو نالائق ، بدبخت، پلید طبع مولوی کا فرٹھہرائیں گے اور دجال کہیں گے اور کفر کا فتویٰ اُن کی نسبت لکھا جائے گا۔اب انصافا سوچو کہ کیا یہی وجاہت ہے جس کے لئے مسیح کو دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے؟ کیا نا چیز اور ذلیل ملاؤں سے گالیاں کھانا اور کافر اور دجال کہلانا یہی وجاہت ہے؟ آثار صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کی جس قدر پلید ملاؤں کے ہاتھ سے بے عزتی ہوگی اور جس قدر وہ نا پاک طبع مولویوں کے منہ سے کافر اور فاسق اور دجال کے الفاظ سنیں گے وہ نہایت درجہ کی ہنگ ہوگی جو پلید طبع مولوی فتویٰ لکھنے والے کریں گے اور خدا کا اُن مولویوں پر غضب ہوگا۔آثار صحیحہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت کے مولوی تمام روئے زمین کے انسانوں سے بدتر اور پلید تر ہوں گے کیونکہ وہ مسیح جیسے راستباز کو کافر اور دجال ٹھہرائیں گے۔غرض مسیح موعود کو جو مولویوں سے عزت اور وجاہت ملے گی وہ یہ ہے۔لیکن جو شخص خدا کے نزدیک، خدا کے فرشتوں کے نزدیک، خدا کے نیک بندوں کے نزدیک عزت اور وجاہت رکھتا ہے اگر پلید جاہلوں کے نزدیک وہ کا فر اور دجال ہو تو اس سے اس کا کیا نقصان ہوا؟