تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 41

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة ال عمران ہوتی ہے۔یہودیوں کا اس پر زور تھا کہ وہ مسیح پر نا جائز پیدائش کا الزام لگاتے تھے اور ان کے ہاں یہ لکھا تھا کہ والد الحرام سات پشت تک بھی خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔چونکہ ان کے اس شبہ اور الزام کا جواب ضروری تھا اس لئے ان کے متعلق یہ کہا گیا۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ معاذ اللہ ! معاذ اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں شیطان سے پاک نہ تھے ایسا اعتقاد کفر صریح ہے کیا کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت آمنہ کی نسبت ایسا الزام لگایا ؟ کبھی نہیں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ مخالفوں نے امین اور صادق تسلیم کیا۔برخلاف اس کے مسیح اور ان کی والدہ کی نسبت یہودیوں کے بیہودہ الزام تھے ہی، خود عیسائیوں نے انسائیکلو پیڈیا میں مان لیا ہے کہ نعوذ باللہ ! وہ ولد الحرام تھے۔پھر ایسی صورت میں کس قدر ضروری تھا کہ اس کا ازالہ ہوتا۔اب یہ ہمارے مخالف اندھے ہو کر ان کی خصوصیت بتاتے ہیں اور منبروں پر چڑھ کر بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ تو حضرت مسیح کا ایک داغ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دھویا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ مثلاً اگر ایک شخص کے چہرہ پر سیاہی کا داغ ہو اور اسے صاف کردیا جاوے تو یہ کیسی حماقت ہو کہ ایک شخص جس کے چہرہ پر وہ داغ ہی نہیں بلکہ خوبصورت اور روشن چہرہ رکھتا ہو اس سے اس سیاہی کے داغ والے کو افضل کہا جاوے صرف اس لئے کہ اس کا داغ صاف ہوا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) فَنَادَتْهُ الْمَلبِكَةُ وَهُوَ قَابِمُ يُصَلَّى فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ و بِيَحْيى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللهِ وَسَيّدًا وَ حَصُورًا وَ نَبِيَّا مِنَ الصَّلِحِينَ مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ بیٹی نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اُس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُس کی خدمت کرتی تھی۔اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں بیچی کا نام حضور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء، روحانی خزائن جلد ۱۸، صفحه ۲۲۰ حاشیه )