تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 40
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۔ سورة ال عمران عمرا (یونس : ۱۷) ۔ پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔ یہ الفاظ حضرت مسیح کی عزت کو بڑھانے والے نہیں ہیں ، ان کی برات کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کلنک کا بھی پتہ دے دیتے ہیں کہ ان پر الزام تھا۔ الحکم جلدے نمبر ۱۶ مؤرخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه (۸) اصل میں یہ مسئلہ اس طرح سے ہے کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ پیدائش دو قسم کی ہوتی ہے ایک میں روح القدس سے اور ایک میں شیطان سے ، تمام نیک اور راست باز لوگوں کی اولاد میں روح القدس سے ہوتی ہے اور جو اولاد بدی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ میں شیطان سے ہوتی ہے۔ تمام انبیاء میں روح القدس سے پیدا ہوئے تھے مگر چونکہ حضرت عیسیٰ کے متعلق یہودیوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ وہ نعوذ باللہ ! ولد الزنا ہیں اور مریم کا ایک اور سپاہی پنڈارا نام کے ساتھ تعلق نا جائز کا ذریعہ ہیں اور میں شیطان کا نتیجہ ہیں۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذمہ سے یہ الزام دور کرنے کے واسطے ان کے متعلق یہ شہادت دی تھی کہ ان کی پیدائش بھی میں روح القدس سے تھی چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیا کے متعلق کوئی اس قسم کا اعتراض نہ تھا اس واسطے ان کے متعلق ایسی بات بیان کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑی۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین ؛ عبد اللہ اور آمنہ کو تو پہلے ہی سے ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان کے متعلق ایسا خیال و گمان بھی کبھی کسی کو نہ ہوا تھا۔ ایک شخص جو مقدمہ میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کے واسطے صفائی کی شہادت کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جو شخص مقدمہ میں گرفتار ہی نہیں ہوا۔ اس کے واسطے صفائی شہادت کی کچھ ضرورت ہی نہیں ۔ (الحکم جلد نمبر ۲۱ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۶ صفحه ۴) ہمارا ایمان یہ ہے کہ کسی نبی کو بھی میں شیطان نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کے راستباز اور صادق بندوں میں سے بھی کسی کو میں شیطان نہیں ہوتا ۔ مطلب اس سے اور تھا اور انہوں نے کچھ اور سمجھ لیا۔ اگر صرف یہ اعتقاد رکھا جاوے کہ مسیح ہی میں شیطان سے پاک تھے اور کوئی پاک نہ تھے تو یہ تو کلمہ کفر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہودی مریم علیہا السلام کو معاذ اللہ ! زانیہ اور حضرت مسیح کو نعوذ باللہ ! ولد الزنا کہتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کے اس الزام سے بریت کی اور مریم کا نام صدیقہ رکھا اور حضرت مسیح کے لئے کہا کہ وہ میں شیطان سے پاک ہے۔ اولا د دو قسم کی ہوتی ہے ؛ ایک وہ جو مس شیطان سے ہو، وہ ولد الحرام کہلاتی ہے ، دوسری وہ جو روح القدس کے مس سے ہو وہ ولد الحلال