تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 34
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴ سورة ال عمران مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آسکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کر کے ایک ہو جاتے ۔ 6 اب جبکہ حُبّ دنیا کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جا سکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ یعنی کہو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا۔ اب اس حُبُّ اللہ کی بجائے اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حُبُّ الدنیا کو مقدم کیا گیا ہے، کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا دار تھے؟ کیا وہ سود لیا کرتے تھے یا فرائض اور احکام الہی کی بجا آوری میں غفلت کیا کرتے تھے کیا آپ میں (معاذ اللہ ! ) نفاق تھا۔ مداہنہ تھا، دنیا کو دین پر مقدم کرتے تھے؟ غور کرو! اتباع تو یہ ہے کہ آپ کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے۔ (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ امورخه ۷ ارمئی ۱۹۰۶ صفحه ۴) جو شخص یہ کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات ہو سکتی ہے، وہ جھوٹا ہے۔ خدا تعالیٰ نے جو بات ہم کو سمجھائی ہے وہ بالکل اس کے برخلاف ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اے رسول ( محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔ بغیر متابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص نجات نہیں پا سکتا۔ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتے ہیں ان کی کبھی خیر نہیں۔ ( بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۷ رجون ۱۹۰۶ ء صفحہ (۳) یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پا جانا تھا اس لئے ظاہری طور پر ایک نمونہ اور خدا نمائی کا آلہ دنیا سے اٹھنا تھا اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک آسان راہ رکھ دی کہ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي کیونکہ محبوب الله مستقیم ہی ہوتا ہے۔ زیغ رکھنے والا کبھی محبوب نہیں بن سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ازدیاد اور تجدید کے لئے ہر نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا ۔ تاکہ اس دعا کی قبولیت کے لئے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے ۔ (حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت وجود پر ایک خط صفحہ ۲۱ مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں ؛ اول: اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي ، دوم : يَأَيُّهَا الَّذِينَ