تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 33

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳ سورة ال عمران کے نزدیک قابل قدر نہیں ہے بلکہ وہ دیکھ لے گا کہ مرنے کے بعد وہ امام اُس سے بیزار ہوگا۔الحکام جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۲) ود چاہئے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا مقام تو یہ تھا کہ آپ محبوب الہی تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی اس مقام پر پہنچنے کی راہ بتائی جیسا کہ فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكم الله یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔اب غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع محبوب الہی تو بنادیتی ہے پھر اور کیا الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵، مورخه ۱۷۱۰اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اس اتباع کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔پس اب اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ جب تک انسان کامل متبع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ سے فیوض و برکات پا نہیں سکتا اور وہ معرفت اور بصیرت جو اس کی گناہ آلو د زندگی اور نفسانی جذبات کی آگ کو ٹھنڈا کر دے عطا نہیں ہوتی۔ایسے لوگ ہیں جو علماء امتی کے مفہوم کے اندر داخل ہیں۔(الکام جلد 4 نمبر ۳۹، مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۳) اے رسول! تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع انسان کو محبوب الہی کے مقام تک پہنچا دیتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کامل موحد کا نمونہ تھے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰،مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷ ) یہ خصوصیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے اور یہ آپ کی حیات کی ایسی زبردست دلیل ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس طرح پر آپ کے برکات و فیوض کا سلسلہ لا انتہا اور غیر منقطع ہے اور ہر زمانہ میں گویا امت آپ کا ہی فیض پاتی ہے اور آپ ہی سے تعلیم حاصل کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی محب بنتی ہے جیسا کہ فرمایا ہے : قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پس خدا تعالیٰ کا پیار، ظاہر ہے ود وو کہ اس امت کو کسی صدی میں خالی نہیں چھوڑتا اور یہی ایک امر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پر روشن دلیل ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ ، مورخہ ۷ ارفروری ۱۹۰۶ ، صفحہ ۳) مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی محب دنیا ہی ہوئی ہے کیونکہ اگر محض اللہ تعالیٰ کی رضا