تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 464
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۴ سورة النساء رنگ میں ہتک ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو توخود اہل مکہ تسلیم کر چکے ہوئے تھے کہ وہ مست شیطان سے پاک ہے تب ہی تو آپ کا نام اُنہوں نے امین رکھا ہوا تھا اور آپ نے ان پر تحدی کیا کہ قَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمرا۔پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔یہ الفاظ حضرت مسیح کی عزت کو بڑھانے والے نہیں ہیں اُن کی برأت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کلنگ کا بھی پتہ دے دیتے ہیں کہ اُن پر الزام تھا۔یاد رکھو کہ کلمہ اور روح کا لفظ عام ہے حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں ہے يُؤْمِنُ بِاللهِ و حلمته اب اللہ تعالیٰ کے کلمات تو لا انتہا ہیں۔اور ایسا ہی صحابہ کی تعریف میں آیا ہے آيَدَهُم بِرُوحِ مِنْهُ پھر مسیح کی کیا خصوصیت رہی۔حضرت مسیح کی ماں کی نسبت جو صد یقہ کا لفظ آیا ہے یہ بھی دراصل رفع الزام ہی کے لیے آیا ہے۔یہودی جو معاذ اللہ ان کو فاسقہ فاجر پھہراتے تھے قرآن شریف نے صدیقہ کہہ کر اُن کے الزاموں کو دور کیا ہے کہ وہ صدیقہ تھیں۔اس سے کوئی خصوصیت اور فخر ثابت نہیں ہوتا اور نہ عیسائی کچھ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔بلکہ ان کو تو یہ امور پیش بھی نہیں کرنے چاہئیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۳۰/اپریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸) ہم بھی تو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کو میں شیطان سے پاک سمجھتے اور دوسرے نبیوں کی ارواح کی طرح اس کی روح کو بھی رُوح منہ مانتے ہیں۔اور يُؤْمِنُ بِاللهِ وَ كَلِمٰتِہ پر یقین رکھتے ہیں مگر اس سے حضرت عیسی علیہ السلام کی دوسرے انبیاء سے کوئی فضیلت تو ثابت نہیں ہوسکتی۔آپ ہی بتائیں کہ ہر ایک شخص رُوحَ مِنْهُ ہوتا ہے یا کسی اور طرف سے؟ سب ارواح خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اسی کی طرف سے ہوتی ہیں نہ کہ کسی اور طرف سے۔ہاں اس میں ایک لطیف اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ فاسقوں فاجروں کی ارواح کو بسبب ان کے فسق و فجور اور شرک کی گندگی کے رُوح منہ نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ روح الشیطان ہوتے ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالی (نے) وَ شَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَ الْاَولاد اور اس طرح سے ہم مانتے ہیں کہ بعض روح الشیطان ہوتے ہیں اور بعض رُوح مِنْہ ہوتے ہیں بعض آدمی ایسے خراب ہوتے ہیں کہ وہ نہایت ہی خبیث الفطرت اور شیطان خصلت ہوتے ہیں ان سے توقع ہی نہیں ہو سکتی کہ وہ کبھی رجوع الی اللہ کرسکیں۔ایسے لوگوں پر رُوح منہ کا لفظ نہیں بولا جاتا بلکہ وہ روح الشیطان ہوتے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام پر جو w