تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 459 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 459

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۹ سورة النساء يَاَهْلَ الْكِتب لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقِّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَ كَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلى مَرْيَمَ وَرُوحُ مِنْهُ فَأمِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَثَةُ انْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إلهُ وَاحِدٌ: سُبُحْنَةَ اَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَ كَفَى بِاللهِ وَكِيلًا اس جگہ خدائے تعالیٰ نے روح کا نام کلمہ رکھا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لا یدرک بھید کے طور پر جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی روحیں بن گئی ہیں۔اسی بناء پر اس آیت کا مضمون بھی ہے كَلِمَةُ الْقُهَا إِلى مَرْيَمَ۔اور چونکہ یہ ستر ربوبیت ہے اس لئے کسی کی مجال نہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ بول سکے کہ کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربی لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اور قو تیں اور خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو روحوں میں پائی جاتی ہیں اور پھر چونکہ ارواح طیبہ فنافی اللہ ہونے کی حالت میں اپنے تمام قومی چھوڑ دیتی ہیں اور اطاعت الہی میں فانی ہو جاتی ہیں تو گویا پھر وہ روح کی حالت سے باہر آ کر کلمتہ اللہ ہی بن جاتی ہیں جیسا کہ ابتدا میں وہ کلمۃ اللہ تھیں۔سو کلمتہ اللہ کے نام سے ان پاک روحوں کو یاد کرنا اُن کے اعلیٰ درجہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے سو انہیں نور کا لباس ملتا ہے اور اعمال صالحہ کی طاقت سے اُن کا خدائے تعالی کی طرف رفع ہوتا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۳، ۳۳۴) إن كُنتُمْ تَظُنُّونَ أَنَّ الْقُرْآنَ صَدَّقَ اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ قرآن تمہارے قول کی قَوْلَكُمْ وَأَعَانَ وَقَالَ فِي شَأْنٍ عِيْسی تصدیق کرتا اور تمہیں مدد دیتا ہے اور عیسی کے بارہ میں کہا وَرُوْحُ مِنْهُ وَقَبِلَ أَنَّهُ خَرَجَ مِن لَّدُنْهُ فَمَا ہے کہ وہ اُس سے رُوح ہے اور اس بات کو قبول کر لیا ہے هذا إِلَّا جَهْلْ صَرِيحٌ وَوَهُمْ قَبِيحُ وخَطا کہ وہ اس نکلا ہے تو یہ خیال تمہارا صریح جہل اور مکروہ مُّبِيْن ثُمَّ إِن فُرِضَ أَن قَوْلَهُ تَعَالى وہم ہے اور کھلا کھلا خطا ہے۔پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ وَرُوحُ مِنْهُ يَزِيدُ شَأْنَ ابْنَ مَرْيَمَ، رُوحٌ مِنْهُ کا لفظ حضرت عیسی کی شان بڑھاتا ہے اس کو وَيَجْعَلُهُ ابْنَ اللهِ وَأَعْلى وَأَكْرَمَ، فَيَجِبُ أَنْ ابن الله اور بلند تر تھہراتا ہے۔سو اس سے لازم آتا ہے کہ ،