تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 450
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۰ سورة النساء اور روایت عکرمہ کی بنا پر وہ معنے پیش کئے جو خالص مستقبل ہونے میں بکلی مولوی صاحب کے معنوں سے ہمرنگ اور ان نقصوں سے مبرا ہیں جو مولوی صاحب کے معنوں میں پائے جاتے ہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ میسیج پر ایمان لانے کے وقت ہمارے سید و مولا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کے ضمن میں ہر یک نبی پر ایمان لانا داخل ہے۔پھر کیا ضرورت ہے کہ اس ایمان کے لئے حضرت مسیح کو آسمانوں کے دارالسرور سے اس دار الابتلا میں دوبارہ لایا جائے۔مثلا دیکھئے کہ جولوگ بقول آپ کے آخری زمانہ میں آنحضرت صلعم پر ایمان لائیں گے یا اب ایمان لاتے ہیں۔کیا ان کے ایمان کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے آویں۔پس ایسا ہی یقین کیجئے کہ حضرت مسیح پر ایمان لانے کیلئے بھی دوبارہ ان کا دنیا میں آنا ضروری نہیں اور ایمان لانے اور دوبارہ آنے میں کچھ تلازم نہیں پایا جاتا۔اور اگر آپ اپنی ضد نہ چھوڑیں اور ضمیر لیؤمنن بہ کو خواہ نخواہ حضرت عیسی کی طرف ہی پھیرنا چاہیں باوجود اس فساد معنے کے جس کا نقصان آپ کی طرف عائد ہے۔ہماری طرز بیان کا کچھ بھی حرج نہیں۔کیونکہ ہمارے طور پر برعایت خالص استقبال کے پھر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسی پر ایمان لے آویں گے۔سو یہ معنے بھی خالص استقبال ہونے میں آپ کے معنے کے ہم رنگ ہیں۔کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ ابھی تک وہ زمانہ نہیں آیا جو سب کے سب موجودہ اہل کتاب حضرت عیسی پر یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ہوں۔لہذا خالص استقبال کے رنگ میں اب تک یہ پیشگوئی موافق ان معنوں کے چلی آتی ہے۔اب اگر ہماری اس تاویل میں آپ کوئی جرح کریں گے تو وہی جرح آپ کی تاویل میں ہوگی۔یہاں تک کہ آپ پیچھا چھڑا نہیں سکیں گے۔جن باتوں کو آپ اپنے پر چوں میں قبول کر بیٹھے ہیں انہیں کی بنا پر میں نے یہ تطبیق کی ہے۔اور جس طرز سے آپ نے آخری زمانہ میں اہل کتاب کا ایمان لا نا قرار دیا ہے اسی طرز کے موافق میں نے آپ کو ملزم کیا ہے۔اور اسے خالص استقبال کے موافق خالص استقبال پیش کر دیا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ صحابہ کے وقت سے اس آیت کو ذو الوجوہ قرار دیتے چلے آئے ہیں۔ابن کثیر نے زیر ترجمہ اس آیت کے یہ لکھا ہے قَالَ ابْنُ جَرِير الختلفَ أَهْلُ الشَّاوِيْلِ فِي مَعْلَى ذلِك فَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعْلَى ذَلِكَ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ يَعْنِي قَبْلَ مَوْتِ عِيسَى وَقَالَ أَخَرُونَ يَعْنِي بِذلِكَ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِعِيْسَى قَبْلَ مَوْتِ