تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 449

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب ہی آجائیں گے ۴۴۹ سورة النساء نام احمد نام جمله انبیا است چونکه صد آمد نو هم نزد ماست بھائیو! برائے خدا خود سوچ لو کہ ان معنوں میں اور حضرت مولوی صاحب کے معنوں میں خالص مستقبل ہونے میں برابری کا درجہ ہے یا ابھی کچھ کسر باقی ہے۔بھائیو میں محض اللہ آپ لوگوں کے سمجھانے کے لئے پھر دوہرا کر کہتا ہوں کہ مولوی صاحب آیت لیؤمنن بہ کے معنے یوں کرتے ہیں کہ ایک زمانہ به ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب حضرت عیسی کی موت سے پہلے سب کے سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔اور میں حسب روایت حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جیسا کہ معالم وغیرہ میں لکھا ہے۔مولوی صاحب کی ہی طرز پر یہ معنے کرتا ہوں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب موجودہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ہمارے نبی کریم صلعم پر ایمان لے آئیں گے۔بھائیو برائے خدا ذرہ نظر ڈال کر دیکھو کہ کیا خالص استقبال میری تاویل اور مولوی صاحب کی تاویل میں برابر درجہ کا ہے یا ابھی فرق رہا ہوا ہے۔اب بھائیو انصافاً دیکھو کہ ان معنوں میں بہ نسبت مولوی صاحب کے معنوں کے کس قدر خوبیاں جمع ہیں۔وہ اعتراض جو مولوی صاحب کی طرز پر ضمیر پہ کے تعین مرجع میں ہوتا تھا۔وہ اس جگہ نہیں ہوسکتا۔قراءت شاذہ اس تاویل کی مؤید ہے۔اور بائیں ہمہ خالص استقبال موجود ہے۔اب اے حاضرین مبارک۔مولوی صاحب کے دعویٰ قطعیت کا بھانڈا پھوٹ گیا۔مگر تعصب اور طرف داری سے خالی ہو کر غور کرنا۔مولوی صاحب نے اس بحث حیات مسیح کا حصر پانچ دلیلوں پر کیا تھا۔چار دلیلوں کو تو انہوں نے خود چھوڑ دیا اور پانچویں کو خدا تعالیٰ نے حق کی تائید کر کے نیست و نابود کیا۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنى اسرائيل : ۸۲)۔اب اے حاضرین۔اے خدا تعالیٰ کے نیک دل بند و۔سوچ کر دیکھو اور ذرہ اپنے فکر کو خرچ کر کے نگاہ کرو کہ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب کا کیا دعوی تھا۔یہی تو تھا کہ آیت لیومنن بہ کے وہ سچے اور صحیح معنے ٹھہر سکتے ہیں جن میں لفظ لیؤمنن کو خالص مستقبل ٹھہرایا جائے اور مولوی صاحب نے اپنے مضمون کے صفحوں کے صفحے اسی بات کے ثابت کرنے کیلئے لکھ مارے کہ نون ثقیلہ مضارع کے آخر مل کر خالص مستقبل کے معنوں میں لے آتا ہے۔اسی دھن میں مولوی صاحب نے حضرت ابن عباس کے معنوں کو قبول نہیں کیا اور یہ عذر پیش کیا کہ وہ معنے بھی تحویوں کے اجماعی عقیدہ کے برخلاف ہیں۔سو ہم نے مولوی صاحب کی خاطر سے ابن عباس کے معنوں کو پیش کرنے سے موقوف رکھا