تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 437
۴۳۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء اور دوسرے طور پر آیت کے یہ بھی معنے ہیں کہ مسیح تو ابھی مرا بھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات شک و شبہ کے یہود و نصاری کے دلوں میں چلے آتے ہیں۔پس ان معنوں کی رُو سے بھی قرآن کریم بطور اشارة النص مسیح کے فوت ہو جانے کی شہادت دے رہا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۹۸،۲۹۷) بعض نا فہم مولوی بطور جرح یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کی یہ علامت لکھی ہے کہ دجال معہود کو وہ تقل کرے گا اور تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں گے اور اس خیال کی تائید میں یہ آیت پیش کرتے ہيں وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكتب الاليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ میں کہتا ہوں کہ اگر اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ مسیح کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے تو پھر ہم ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ دجال کفر کی حالت میں ہی قتل کیا جائے گا۔ماسوا اس کے مسلم کی حدیث میں صاف لکھا ہے کہ دجال کے ساتھ ستر ہزار اہل کتاب شامل ہو جائیں گے اور اکثر کی اُن میں سے کفر پر موت ہوگی اور مسیح کی وفات کے بعد بھی اکثر لوگ کا فر اور بے دین باقی رہ جائیں گے جن پر قیامت آئے گی اور قرآن کریم بھی صریح اور صاف طور پر اس پر شہادت دیتا ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے۔يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (ال عمران (۵۶) یعنی میں تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر یعنی یہود پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے دن تک یہود کی نسل تھوڑی بہت باقی رہ جائے گی اور پھر فرماتا ہے فَاغْرَینَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (المائدة : ۱۵) یعنی ہم نے یہود اور نصاریٰ میں قیامت کے دن تک عداوت اور بغض ڈال دیا ہے۔اس آیت سے بھی صاف طور پر ثابت ہے کہ یہودی قیامت کے دن تک رہیں گے کیونکہ اگر وہ پہلے ہی حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو پھر سلسلہ عداوت اور بغض کا قیامت تک کیوں کر مند ہوگا۔لہذا ماننا پڑا کہ ایسا خیال کہ حضرت مسیح کے نزول کی یہ علامت ہے کہ تمام اہل کتاب اُس پر ایمان لے آویں گے صریح نص قرآن اور حدیث سے مخالف ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۸،۴۹۷) اگر فرض کے طور پر یہ مان لیا جائے کہ آیت موصوفہ میں لفظ لَيُؤْمِنَنَّ استقبال کے ہی معنی رکھتا ہے پھر بھی کیوں کر یہ آیت مسیح کی زندگی پر قطعیۃ الدلالہ ہو سکتی ہے کیا استقبالی طور پر یہ دوسرے معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خبر دیتی ہے بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت