تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 436

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۶ سورة النساء کہ مسیح کے دم سے اُس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے اور کچھ ضرور نہیں کہ ہم بار بار ان حدیثوں کو نقل کریں۔اسی رسالہ میں اپنے موقعہ پر دیکھ لینا چاہیئے ماسوا اس کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ مسلمہ ہے کہ دجال بھی اہل کتاب میں سے ہی ہوگا اور یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔اب میں اندازہ نہیں کر سکتا کہ اس خیال کے پیروان حدیثوں کو پڑھ کر کس قدر شرمندہ ہوں گے۔یہ بھی مانا گیا اور مسلم میں موجود ہے کہ مسیح کے بعد شریر رہ جائیں گے جن پر قیامت آئے گی۔اگر کوئی کا فرنہیں رہے گا تو وہ کہاں سے آ جائے گی۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۸ تا ۲۹۰) إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتب الا ليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ پیشگوئی کی صورت پر نہیں جیسا کہ ہمارے بھائی مولوی صاحبان جو بڑے علم کا دم مارتے ہیں خیال کر رہے ہیں۔بلکہ یہ تو اس واقعہ کا بیان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھا یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے خیالات کی جو اُس وقت حالت تھی خدائے تعالیٰ اتماما للحجة اُنہیں سنا رہا ہے اور اُن کے دلوں کی حقیقت اُن پر ظاہر کر رہا ہے اور اُن کو ملزم کر کے انہیں یہ سمجھا رہا ہے کہ اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو مقابل پر آ کر صاف طور پر دعویٰ کرو کہ یہ خبر غلط بتائی گئی ہے اور ہم لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ یقینی طور پر سمجھ بیٹھے ہیں کہ سچ سچی مسیح مصلوب ہو گیا ہے۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ آخر آیت میں جو یہ لفظ واقعہ ہے کہ قبلَ مَوْتِهِ اس کلام سے اللہ جل شانہ کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شخص مسیح کی عدم مصلوبیت سے یہ نتیجہ نہ نکال لیوے کہ چونکہ مسیح صلیب کے ذریعہ سے مارا نہیں گیا اس لئے وہ مرا بھی نہیں۔سو بیان فرما دیا کہ یہ تمام حال تو قبل از موت طبعی ہے اس سے اُس موت کی نفی نہ نکال لینا جو بعد اس کے طبعی طور پر مسیح کو پیش آگئی۔گویا اس آیت میں یوں فرماتا ہے کہ یہود اور نصاری ہمارے اس بیان پر بالا تفاق ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح یقینی طور پر صلیب کی موت سے نہیں مرا صرف شکوک و شبہات ہیں۔سو قبل اس کے جو وہ لوگ مسیح کی موت طبعی پر ایمان لاویں جو درحقیقت واقعہ ہو گئی ہے۔اس موت کے مقدمہ پر انہیں ایمان ہے کیونکہ جب مسیح صلیب کی موت سے نہیں مراجس سے یہود اور نصاری اپنے اپنے اغراض کی وجہ سے خاص خاص نتیجے نکالنے چاہتے تھے تو پھر اُس کی طبعی موت پر بھی ایمان لانا اُن کے لئے ضروری ہے کیونکہ پیدائش کے لئے موت لازمی ہے۔سو قبل موتہ کی تفسیر یہ کہ قبل ایمانه بموته۔