تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 435

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۵ سورة النساء کتاب اس پر ایمان لے آویں گے۔سو اس آیت کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ مسیح اس وقت تک جیتار ہے جب تک کہ تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں۔انا الجواب۔پس واضح ہو کہ سائل کو یہ دھوک لگا ہے کہ اس نے اپنے دل میں یہ خیال کر لیا ہے کہ آیت فرقانی کا یہ منشاء ہے کہ میچ کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب کے فرقوں کا اُس پر ایمان لانا ضروری ہے۔کیونکہ اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنے ہیں جیسا کہ سائل سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔حالانکہ یہ خیال بہداہت باطل ہے۔ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہو چکے ہیں اور خدا جانے آئندہ بھی کس قدر کفران کی وجہ سے اس آتشی تنور میں پڑیں گے اگر خدائے تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ وہ تمام اہل کتاب فوت شدہ مسیح کے نازل ہونے کے وقت اُس پر ایمان لاویں گے تو وہ اُن سب کو اُس وقت تک زندہ رکھتا جب تک کہ مسیح آسمان سے نازل ہوتا لیکن اب مرنے کے بعد اُن کا ایمان لانا کیوں کر ممکن ہے؟ بعض لوگ نہایت تکلف اختیار کر کے یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت خدائے تعالیٰ اُن سب اہل کتاب کو پھر زندہ کرے جو مسیح کے وقت بحث سے مسیح کے دوبارہ نزول تک کفر کی حالت میں مر گئے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو کوئی کام خدائے تعالیٰ سے غیر ممکن نہیں لیکن زیر بحث تو یہ امر ہے کہ کیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ان خیالات کا کچھ نشان پایا جاتا ہے اگر پایا جاتا ہے تو کیوں وہ پیش نہیں کیا جاتا؟۔بعض لوگ کچھ شرمندے سے ہو کر دبی زبان یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہلِ کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو سیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آویں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مومنوں کی فوج میں داخل ہو جا ئیں گے لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تمیم کا دے رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو سیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے۔اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔علاوہ اس کے یہ معنے بھی جو پیش کئے گئے ہیں بداہت فاسد ہیں۔کیونکہ احادیث بآواز بلند بتلا رہی ہیں