تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 434
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۴ سورة النساء کہ نعوذ باللہ عرش الہی آسمان سے قریب اور زمین سے دور ہے۔لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے عرش مقام تنزیہہ ہے اور اسی لئے خدا ہر جگہ حاضر ناظر ہے جیسا کہ فرماتا ہے هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمُ (الحدید: ۵)۔اور مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمُ (المجادلة : ۸)۔اور فرماتا ہے کہ وَنَحْنُ أَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق: ۱۷)۔غرض اصل جھگڑا تو صرف ان کے رفع روحانی اور مقرب بارگاہ سلطانی ہونے کے متعلق تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ ہی کر دیا یہ فرما کر کہ بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔اب کوئی بتائے کہ بھلا اس سے ان کا آسمان پر چڑھ جانا کیسے ثابت ہوتا ہے۔کیا خدا آسمان پر ہے اور زمین پر نہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۱ مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۲) اصل جھگڑا تو یہود کا یہ تھا کہ حضرت مسیح کا رفع روحانی نہیں ہوا۔وہ تو اس بات کو ثابت کرنا چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ مسیح لعین اور مردود ہیں اسی واسطے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہم نے مسیح کو صلیب دیا اور اس طرح ان کو قتل کرنے کے مدعی تھے تا کہ اپنی کتاب کے فرمودہ کے مطابق ان کو جھوٹا نبی ثابت کریں۔رفع جسمانی کے متعلق تو کوئی جھگڑا ہی نہ تھا۔قرآن شریف چونکہ بنی اسرائیل کے متنازعہ فیہ امور میں حکم اور قول فیصل ہے اس نے یہود کے اس اعتراص اور بہتان کا جو انہوں نے مسیح کو لعنتی اور جھوٹا نہی ثابت کرنے کے واسطے باندھا تھا جواب دیا کہ مَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔کہ یہود نے جیسا کہ ان کا زعم ہے حضرت مسیح کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس طرح سے وہ ان کو جھوٹا نبی ثابت کرنے کے دعوی میں کامیاب ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا رفع روحانی کیا اور ان کو ایسی ذلت اور ادبار سے بچالیا۔اگر رفع جسمانی ہی نجات اور پاکیزگی اور مقبول اور محبوب الہی ہونے کا موجب ہے تو پھر تو سارے ہی نبی جھوٹے ٹھیر تے ہیں اور کوئی بھی نجات یافتہ نہیں رہتا چہ جائیکہ کوئی خدا کا محبوب اور مقبول بھی ہو ( نعوذ باللہ من ذلک ) تعصب نے ان کو کسی کام کا نہ چھوڑا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۷ ۴ مورخه ۱۴ /اگست ۱۹۰۸ صفحه ۴) وَ اِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الأَليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدان سوال قرآن شریف کی آیت مندرجہ ذیل مسیح ابن مریم کی زندگی پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے وان مِنْ أَهْلِ الكتب الاليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل