تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 432
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۲ سورة النساء نہیں ہوئے۔مگر غشی کی حالت اُن پر طاری ہوگئی تھی بعد میں دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسی کے استعمال سے ( جو آج تک صد باطبی کتابوں میں موجود ہے جو حضرت عیسی کیلئے بنائی گئی تھی ) اُن کے زخم بھی اچھے ہو گئے۔پھر ایک اور بدقسمتی ہے کہ وہ ان آیتوں کے شان نزول کو نہیں دیکھتے۔قرآن شریف یہود ونصاری کے اختلافات دور کرنے کے لئے بطور حکم کے تھا تا اُن کے اختلافات کا فیصلہ کرے اور اُس کا فرض تھا کہ اُن کے متنازعہ فیہ امور کا فیصلہ کرتا پس منجملہ متنازعہ فیہ امور کے ایک یہ امر بھی متنازعہ فیہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ ہماری توریت میں لکھا ہے کہ جو کاٹھ پر لٹکایا جاوے وہ لعنتی ہوتا ہے اُس کی روح مرنے کے بعد خدا کی طرف نہیں جاتی۔پس چونکہ حضرت عیسیٰ صلیب پر مر گئے اس لئے وہ خدا کی طرف نہیں گئے اور آسمان کے دروازے اُن کے لئے نہیں کھولے گئے۔اور عیسائیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عیسائی تھے اپنا یہ عقیدہ مشہور کیا تھا چنانچہ آج تک وہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی صلیب پر جان دے کر لعنتی تو بن گئے مگر یہ لعنت اور وں کو نجات دینے کے لئے انہوں نے خود اپنے سر پر لے لی تھی اور آخر وہ نہ جسم عنصری کے ساتھ بلکہ ایک نئے اور ایک جلالی جسم کے ساتھ جو خون اور گوشت اور ہڈی اور زوال پذیر ہونے والے مادہ سے پاک تھا خدا کی طرف اُٹھائے گئے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ان دونوں متخاصمین کی نسبت یہ فیصلہ دیا کہ یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ عیسی کی صلیب پر جان نکلی یا و قتل ہوا تا اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ وہ بموجب حکم تو ریت لعنتی ہے بلکہ وہ صلیبی موت سے بچایا گیا اور مومنوں کی طرح اُس کا خدا کی طرف رفع ہوا اور جیسا کہ ہر ایک مومن ایک جلالی جسم خدا سے یا کر خدائے عزوجل کی طرف اُٹھایا جاتا ہے وہ بھی اُٹھائے گئے اور اُن نبیوں میں جا ملے جو اُن سے پہلے گزر چکے تھے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان سے سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ نے معراج سے واپس آ کر بیان فرمایا کہ جیسے اور نبیوں کے مقدس اجسام دیکھے ویسا ہی حضرت عیسی کو بھی انہیں کے رنگ میں پایا اور اُن کے ساتھ پا یا کوئی نرالا جسم نہیں دیکھا۔پس یہ مسئلہ کیسا صاف اور صریح تھا کہ یہودیوں کا انکار محض رفع روحانی سے تھا کیونکہ وہی رفع ہے جو لعنت کے مفہوم کے برخلاف ہے مگر مسلمانوں نے محض اپنی نا واقفیت کی وجہ سے رفع روحانی کو رفع جسمانی بنادیا۔یہودیوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں کہ جو شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہ جاوے وہ مومن نہیں بلکہ وہ تو آج تک اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ جس کا رفع روحانی نہ ہو اور اُس کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے