تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 431
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۱ سورة النساء تھیں تو منجملہ ان تہمتوں کے یہ بھی یہود کی ایک تہمت تھی کہ وہ حضرت عیسی کے رفع روحانی کے منکر تھے اور اس طور سے نعوذ باللہ ان کو کافر ٹھہراتے تھے۔ پس قرآن شریف کا فرض تھا کہ اس تہمت سے اُن کو بری کرتا ۔سو اگر ان آیتوں میں اس نے حضرت عیسیٰ کو اس تہمت سے بری نہیں کیا تو قرآن شریف میں سے اور ایسی آیتیں پیش کرنی چاہئیں جن میں اس نے اس تہمت سے حضرت عیسیٰ کو بری کر دیا ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۳۴۰ حاشیه ) خدا تعالیٰ کے اس کلام سے کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ یہ معنی نکالنا کہ حضرت عیسی مع جسم عنصری دوسرے آسمان پر حضرت یحیی کے پاس جا بیٹھے کس قدر نا فہمی اور نادانی ہے۔ کیا خدائے عز وجل دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے اور کیا قرآن میں رفع الی الله کے معنی کسی اور محل میں بھی یہ آئے ہیں کہ آسمان پر مع جسم عنصری اُٹھا لینا اور کیا قرآن شریف میں اس کی کوئی نظیر ہے کہ جسم عنصری بھی آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے؟ اور اس آیت کے مشابہ دوسری آیت بھی قرآن شریف میں موجود ہے اور وہ یہ کہ يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر : ۲۸ ، ۲۹) ۔ پس کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اے نفس مطمئنہ مع جسم عنصری دوسرے آسمان پر چلا جا! اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بلعم باعور کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی طرف اُس کا رفع چاہا مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ کیا اس آیت کے بھی یہی یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ بلعم باعور کو مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھانا چاہتا تھا مگر بلعم نے زمین پر رہنا ہی پسند کیا۔ افسوس کس قدر قرآن شریف کی تحریف کی جاتی ہے۔ یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوہ موجود ہے وہ موجود ہے اس سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ کسی شخص کا نہ مقتول ہونا نہ مصلوب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھایا گیا ہو۔ اگلی آیت میں صریح یہ لفظ موجود ہیں کہ لیکن شُبِّهَ لَهُمْ یعنی یہودی قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ مگر اُن کو شبہ میں ڈالا گیا کہ ہم نے قتل کر دیا ہے۔ پس شبہ میں ڈالنے کے لئے اس بات کی کیا ضرورت تھی کہ کسی اور مومن کو مصلوب کر کے لعنتی بنایا جائے ۔ یا خود یہودیوں میں سے کسی کو حضرت عیسی کی شکل بنا کر صلیب پر چڑھا یا جاوے۔ کیونکہ اس صورت میں ایسا شخص اپنے تئیں حضرت عیسی کا دشمن ظاہر کر کے اور اپنے اہل وعیال کے پتے اور نشان دے کر ایک دم میں مخلصی حاصل کر سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ عیسی نے جادو سے مجھے اپنی شکل پر بنادیا ہے یہ کس قدر مجنونانہ تو ہمات ہیں ۔ کیوں لكِن شُبَّهَ لَهُمْ کے معنی یہ نہیں کرتے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت - رو