تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 428

۴۲۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء ہے۔مرنے کے بعد ہر ایک مومن کا رفع ہوتا ہے۔چنانچہ آیت هذَا ذِكرُ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَأْبٍ - جَنْتِ عَدْنٍ مُّفَتَحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ (ص) :۵۱،۵۰) ( سورة ص پارہ ۲۳ ۱۳۶ ) میں اس رفع کی طرف اشارہ ہے۔لیکن کافر کا رفع نہیں ہوتا چنانچہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف:۴۱) اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۶، ۲۱۷) اگر یہ بات صحیح ہے کہ آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ الله کے یہی معنی ہیں کہ حضرت عیسی آسمان دوم کی طرف اُٹھائے گئے تو پھر پیش کرنا چاہئے کہ اصل متنازعہ فیہ امر کا فیصلہ کس آیت میں بتلایا گیا ہے۔یہودی جواب تک زندہ اور موجود ہیں وہ تو حضرت مسیح کے رفع کے انہیں معنوں سے منکر ہیں کہ وہ نعوذ باللہ مومن اور صادق نہ تھے اور ان کی روح کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا اور شک ہو تو یہودیوں کے علماء سے جا کر پوچھ لو کہ وہ صلیبی موت سے یہ نتیجہ نہیں نکالتے کہ اس موت سے روح معہ جسم آسمان پر نہیں جاتی۔بلکہ وہ بالا تفاق یہ کہتے ہیں کہ جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے وہ ملعون ہے۔اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حضرت عیسی کی صلیبی موت سے انکار کیا اور فرمایا وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُيْهَ انکار لَهُمُ اور صلَبُوہ کے ساتھ آیت میں قتلوہ کا لفظ بڑھا دیا۔تا اس بات پر دلالت کرے کہ صرف صلیب پر چڑھایا جانا موجب لعنت نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ صلیب پر چڑھایا بھی جائے اور بہ نیت قتل اس کی ٹانگیں بھی توڑی جائیں اور اس کو مارا بھی جائے تب وہ موت ملعون کی موت کہلائے گی مگر خدا نے حضرت عیسی کو اس موت سے بچالیا۔وہ صلیب پر چڑھائے گئے مگر صلیب کے ذریعہ سے ان کی موت نہیں ہوئی۔ہاں یہود کے دلوں میں یہ شبہ ڈال دیا کہ گویا وہ صلیب پر مر گئے ہیں اور یہی دھوکا نصاری کو بھی لگ گیا۔ہاں انہوں نے خیال کیا کہ وہ مرنے کے بعد زندہ ہو گئے ہیں لیکن اصل بات صرف اتنی تھی کہ اس صلیب کے صدمہ سے بے ہوش ہو گئے تھے اور یہی معنی شبه لھم کے ہیں۔(لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۹) یہودی فاضل جواب تک موجود ہیں اور بمبئی اور کلکتہ میں بھی پائے جاتے ہیں عیسائیوں کے اس قول پر کہ حضرت عیسی آسمان پر چلے گئے بڑاٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے نادان ہیں جنہوں نے اصل بات کو سمجھا نہیں۔کیونکہ قدیم یہودیوں کا تو یہ دعویٰ تھا کہ جو شخص صلیب دیا جائے وہ بے دین ہوتا ہے اور اس کی روح آسمان پر اٹھائی نہیں جاتی۔اس دعوی کے رو کرنے کے لئے عیسائیوں نے یہ بات بنائی کہ گویا حضرت عیسی مع جسم آسمان پر چلے گئے ہیں تا وہ داغ جو مصلوب ہونے سے حضرت عیسی پر لگتا تھا وہ وو