تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 426
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۶ سورة النساء 6 مِنْ تِلْكَ الْحَادِثَةِ الشَّهِيرَةِ الَّتِي سکیں انہیں اس مشہور واقعہ سے انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی جو اشْتَهَرَتْ بَيْنَ الْخَوَاضِ وَالْعَوَامِ ، فَإِنَّ خواص اور عوام میں شہرت پاچکا تھا کیونکہ تمام یہودی فرقوں الصَّلِيبَ كَانَ مُوْجِبًا لِلَّعْنَةِ بِاتَّفَاقِ اور ان کے بڑے بڑے علماء کے اتفاق سے صلیبی موت جَمِيعِ فِرَقِ الْيَهُودِ وَعُلَمَائِهُمُ موجب لعنت ہے اس لیے انہوں نے عیسیٰ کی بریت کے لیے الْعِظَامِ، فَلِذلِكَ نُحِتَتْ قِصَّةُ صَعُودِ بطور ایک حیلہ کے بجسده العنصری آپ کے آسمان پر چڑھ الْمَسِيحِ مَعَ الْجِسْمِ حِيْلَةً لِلْإِبْرَاءِ ، جانے کا قصہ گھڑ لیا۔ لیکن گواہوں کے موجود نہ ہونے کی وجہ فَمَا قُبِلَتْ لِعَدُمِ الشُّهَدَاءِ ، فَرَجَعُوا سے اس حیلہ کو قبولیت عامہ حاصل نہ ہوئی۔ پس وہ لعنت کے مُضْطَرِينَ إِلى قُبُولِ إِلزَامِ اللَّعْنَةِ، الزام کو قبول کرنے کے لیے بے بس ہو گئے اور انہوں نے یہ وَقَالُوا حَمَلَهَا الْمَسِيحُ تَنْجِيَةً لِلْأُمَّةِ۔ کہنا شروع کر دیا کہ مسیح علیہ السلام نے امت کی نجات کی وَمَا كَانَتْ هَذِهِ الْمَعَاذِيرُ إِلَّا كَخَبْطِ خاطر اس لعنت کو قبول کر لیا تھا۔ لیکن یہ سب عذر اندھیرے عَشْوَاءَ ، ثُمَّ بَعْدَ مُدَّةِ اتَّبَعُوا الْأَهْوَاءِ میں ہاتھ پیر مارنے کے مترادف تھے پھر کچھ مدت کے بعد وَجَعَلُوا مُتَعَمِّدِينَ ابْنَ مَرْيَمَ لِلهِ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی شروع کی اور كَشُرَكَاءِ ، وَصَارَ صُعُودُ الْمَسِيحِ جان بوجھ کر ابن مریم کو اللہ کا شریک قرار دے دیا۔ اور تین وَحَمْلُهُ اللَّعْنَةِ عَقِيدَةً بَعْدَ ثَلَاثِ سو سال بعد مسیح علیہ السلام کا آسمان پر چڑھ جانا اور لعنت کو مِائَةِ سَنَةٍ عِنْدَ الْمَسِيحِينَ، ثُمَّ قبول کرنا عیسائیوں کے نزدیک ایک عقیدہ قرار پا گیا پھر تَبِعَ بَعْضَ خَيَالَاتِهِمْ بَعْدَ الْقُرُونِ مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سو سال الثَّلَاثَةِ الْفَيْجِ الْأَعْوَجِ مِن بعد شج اعوج میں عیسائیوں کے بعض خیالات کی تقلید شروع الْمُسْلِمِينَ۔ وَاعْلَمُ، أَرْشَدَكَ اللهُ، أَنَّ کردی اور اے مخاطب ! اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے رَسُولَنَا مَا رَأَى عِيسَى لِيْلَةَ الْمِعْرَاجِ خوب سمجھ لو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات إِلَّا فِي أَرْوَاحِ الْأَمْوَاتِ، وَإِنَّ فِي ذلِكَ حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ لوگوں کی روحوں میں ہی لَايَةً لِذَوِي الْحَصَاةِ۔ وَكُلُّ مُؤْمِنٍ يُرْفَعُ دیکھا تھا اور اس میں عقلمندوں کے لیے ایک نشان ہے۔ اور رُوحُهُ بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُفْتَحُ لَهُ أَبْوَابُ موت کے بعد ہی مومنوں کی روح کا رفع ہوتا ہے اور اس السَّمَاوَاتِ، فَكَيْفَ وَصَلَ الْمَسِيحُ کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر