تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 425
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۵ سورة النساء ؟ كَانَ لِبَيَانِ رَفْعِ جِسْمِ عِيسَى إِلى مقصد یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے جسم عنصری آسمان پر السَّمَاءِ ، فَأَيْنَ ذِكْرُ رَفْعِ رُوحِهِ الَّذِي اُٹھائے جانے کا ذکر کیا جائے تو آپ کے رفع روحانی کا ذکر فِيهِ تَطْهِيرُهُ مِنَ اللَّعْنَةِ وَشَهَادَةُ کہاں ہے جس میں آپ کے لعنت سے پاک ہونے اور الْإِبْرَاءِ ، مَعَ أَنَّ ذِكْرَةً كَانَ وَاجِبًا لِرَدِ مَا الزامات سے بری ہونے کی شہادت ہے حالانکہ اس کا ذکر زَعَمَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى مِنَ الْخَطَاءِ ۔ یہود اور نصاریٰ کے جھوٹے خیالات کی تردید کے لیے وَكَفَاكَ هَذَا إِنْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ الرُّشْدِ ضروری تھا اور اگر تو اہلِ رشد و عقل میں سے ہے تو تیرے وَالنَّهَاءِ ۔ أَتَظُنُّ أَنَّ اللهَ تَرَكَ بَيَانَ رَفْعِ لیے اسی قدر بیان کافی ہے۔ کیا تو خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ الرُّوحِ الَّذِي يُنَجِّي عِيسَى مِمَّا أُفتِی نے اس رفع روحانی کا ذکر تو چھوڑ دیا جو حضرت مسیح علیہ عَلَيْهِ فِي الشَّرِيعَةِ الْمُوْسَوِيَّةِ، وَتَصَدَّى السلام کو شریعت موسویہ کی رو سے دئے گئے فتویٰ سے نجات لِذِكْرِ رَفْعِ الْجِسْمِ الَّذِي لَا يَتَعَلَّقُ بِأَمْرٍ یافتہ اور خالصی پانے والا قرار دیتا تھا اور اللہ تعالیٰ جسم کے رفع يَسْتَلْزِمُ اللَّعْنَةَ عِنْدَ هَذِهِ الْفِرْقَةِ بَلْ کے ذکر کے پیچھے پڑ گیا جو کسی ایسے امر سے تعلق نہیں رکھتا جو أَمْرٌ لَغْوُ اشْتَهَرَ بَيْنَ زَمَعِ النَّصَارَى ان لوگوں کے نزدیک لعنت کو مستلزم ہو۔ بلکہ وہ ایسی لغو بات وَالْعَامَّةِ، وَلَيْسَ تَحْتَهُ شَيْئ من ہے جو نصاری کے کم فہم افراد اور عوام میں مشہور ہوگئی تھی اور الْحَقِيقَةِ، وَمَا حَمَلَ النَّصَارَى عَلى ذلِك جس میں کچھ بھی حقیقت نہیں ۔ اس بات پر نصاری کو صرف إِلَّا طَعْنُ الْيَهُودِ بِالْإِحْرَارِ، وَقَوْلُهُمْ أَنَّ یہودیوں کے پے در پے طعنوں اور ان کے اس الزام نے عِيسَى مَلْعُوْنَ بِمَا صُلِبَ كَالأَشْرَارِ، اُکسایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ملعون ہیں کیونکہ آپ کو شریروں وَالْمَصْلُوبُ مَلْعُوْنَ بِحُكْمِ التَّوْرَاةِ کی طرح صلیب پر مارا گیا اور مصلوب شخص تو رات کے حکم وَلَيْسَ هُهُنَا سَعَةُ الْفِرَارِ، فَضَاقَتِ کے مطابق ملعون ہوتا ہے۔ اور اس جگہ اس الزام سے الْأَرْضُ بِهَذَا الطَّعْنِ عَلَى النَّصارى فرار کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ پس ان طعنوں سے عیسائیوں وَصَارُوا فِي أَيْدِي الْيَهُودِ كَالأَسَاری پر زمین تنگ ہوگئی اور وہ یہودیوں کے ہاتھوں میں قیدیوں فَنَحَتُوا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ حِيْلَةَ صَعُودِ کی طرح ہو گئے ۔ پس انہوں نے اپنے پاس سے عیسیٰ علیہ عِيسَى إِلَى السَّمَاءِ ، لَعَلَّهُمْ يُطَهِّرُ وهُ مِنَ السلام کے آسمان پر چڑھ جانے کا حیلہ تراش لیا۔ تا وہ اس اللَّعْنَةِ بِهَذَا الْافْتِرَاء ۔ وَمَا كَانَ مَفَر جھوٹے عقیدہ کے ذریعہ مسیح کو لعنت سے پاک قرار دے -