تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 422
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۲ سورة النساء بسط سے اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں اور اب تک ہمارے مخالف عدم جواب کی وجہ سے ہمارے مدیون ہیں۔پھر اس میں اب ہم پیر مہر علی شاہ یا کسی اور پیر صاحب یا مولوی صاحب سے کیا بحث کریں۔ہم تو باطل کو ذبح کر چکے اب ذبح کے بعد کیوں اپنے ذبیحہ پر بے فائدہ چھری پھیریں۔اے حضرات ! ان اُمور میں اب بحثوں کا وقت نہیں۔اب تو ہمارے مخالفوں کے لئے ڈرنے اور تو بہ کرنے کا وقت ہے کیونکہ جہاں تک اس دنیا میں ثبوت ممکن ہے اور جہاں تک حقائق اور دعاوی کو ثابت کیا جاتا ہے اسی طرح ہم نے حضرت مسیح کی موت اور اُن کے رفع روحانی کو ثابت کر دیا ہے۔فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَلُ - (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۱۰ تا ۱۱۴) یہود حضرت عیسی علیہ السلام کے اس رفع سے منکر تھے جو ہر یک مومن کے لئے مدار نجات ہے کیونکہ مسلمانوں کی طرح ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ جان نکلنے کے بعد ہر ایک مومن کی روح کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں مگر کافر پر آسمان کے دروازے بند ہوتے ہیں اس لیے اس کی روح نیچے شیطان کی طرف پھینک دی جاتی ہے جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں بھی شیطان کی طرف ہی جاتا تھا لیکن مومن اپنی زندگی میں اوپر کی طرف جاتا ہے اس لیے مرنے کے بعد بھی خدا کی طرف اس کا رفع ہوتا ہے اور ارجعی الی ربک کی آواز آتی ہے۔تحفہ گولڑ و یه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۱۳ حاشیه ) رفع جسمانی کا خیال اس وقت نصاری کے دل میں پیدا ہوا جبکہ ان کا ارادہ ہوا کہ مسیح کو خدا بنا دیں اور دنیا کا منجی قرار دیں ورنہ نصاریٰ بھی خود اس بات کے قائل ہیں کہ نجات کے لئے تو صرف روحانی رفع کافی ہے پس افسوس کہ جس امر کو نصاری حضرت مسیح کی خدائی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ان کی ایک خصوصیت ٹھہراتے ہیں وہی امر مسلمانوں نے بھی اپنے عقیدہ میں داخل کر لیا ہے اگر مسلمان یہ جواب دیں کہ ہم تو اور یس کو بھی مسیح کی طرح آسمان پر عقیدہ رکھتے ہیں یہ دوسرا جھوٹھ ہے کیونکہ جیسا کہ تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے کہ اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ اور میں آسمان پر زندہ جسم عنصری نہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ وہ بھی کسی دن زمین پر مرنے کے لیے آئے گا تو اب خواہ نخواہ رفع جسمانی میں مسیح کی خصوصیت ماننی پڑی اور قبول کرنا پڑا کہ اس کا جسم غیر فانی ہے اور خدا کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور یہ صریح باطل ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۱۳ حاشیہ) خدا کی طرف جانے کا نام رفع ہے اور شیطان کی طرف جانے کا نام لعنت ہے۔ان دونوں لفظوں میں