تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 411
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۱ سورة النساء عبادت کرتے رہے اور سکھوں کے زمانہ تک ان کی یادگار کا کوہ سلیمان پر کتبہ موجود تھا۔آخر سری نگر میں ایک سو پچیس برس کی عمر میں وفات پائی اور خان یار کے محلہ کے قریب آپ کا مقدس مزار ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۶۱، ۳۶۲) بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ یعنی مسیح ابن مریم مقتول اور مصلوب ہو کر مردود اور ملعون لوگوں کی موت سے نہیں مرا۔جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا خیال ہے۔بلکہ خدائے تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔جاننا چاہئے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے وَ رَفَعَنْهُ مَكَانًا عَلِيًّا۔یہ آیت حضرت ادریس کے حق میں ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے اور میں کو موت دے کر مکان بلند میں پہنچا دیا۔کیونکہ اگر وہ بغیر موت کے آسمان پر چڑھ گئے تو پھر بوجہ ضرورت موت جو ایک انسان کے لئے ایک لازمی امر ہے یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ کسی وقت او پر ہی فوت ہو جا ئیں اور یا زمین پر آ کر فوت ہوں۔مگر یہ دونوں شق ممتنع ہیں۔کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جسم خاکی موت کے بعد پھر خاک ہی میں داخل کیا جاتا ہے اور خاک ہی کی طرف عود کرتا ہے اور خاک ہی سے اس کا حشر ہوگا۔اور ادریس کا پھر زمین پر آنا اور دوبارہ آسمان سے نازل ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں۔لہذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔مگر ایسی موت جوعزت کے ساتھ ہو۔جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علمین تک پہنچائی جاتی ہیں فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكِ مُقْتَدِرٍ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۳، ۴۲۴) قَالَ بَعْضُ النَّاسِ الَّذِي لَا عِلْمَ عِنْدَہ ایک ایسے شخص نے جو علم سے بالکل بے بہرہ ہے إنَّ ايَةً وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَ لكِن شُبہ یہ کہا ہے کہ آیت وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شَيْهَ لَهُمْ وَايَةَ بَلْ تَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ دَلِيْلٌ عَلَى أَنَّ لَهُمُ اور آیت بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اس بات کی دلیل الْمَسِيحَ رُفِعَ حَيًّا بِسْمِهِ الْعُنْصُرِيّ هَذَا ہیں کہ مسیح ناصری اپنے جسم عصری کے ساتھ زندہ قَوْله وَاسْتدلاله ولكن لَوْ كَانَ هَذَا اُٹھائے گئے یہ محض اس کا قول اور استدلال ہے لیکن اگر الرَّجُلُ مُطَلِعًا عَلَى شَأْنِ نُزُوْلِ هَذِهِ الْآيَةِ شخص اس آیت کے شان نزول سے واقف ہوتا تو لرجعَ مِنْ قَوْلِهِ بَلْ مَا الْتَفَتَ إلى معنى اپنے اس قول سے ضرور رجوع کر لیتا بلکہ ان معنی کی طرف يُخَالِف طَرِيقَ الْمَعْقُولِ وَالْمَنقُولِ، وَمَا جو معقول اور منقول طریق کے مخالف ہیں تو جہ ہی نہ کرتا