تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 408

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۸ سورة النساء یوز آسف کا قصہ یورپ کی تمام زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس قدر پُر جوش محبت سے یورپ کی تمام زبانوں میں یوز آسف کی تعلیم کا ترجمہ ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ کم سے کم یوز آسف کو ایک مقدس حواری سمجھا گیا ہے۔پس اس صورت میں تمام عیسائی صاحبان اس مطالبہ کے نیچے ہیں کہ انہوں نے بہر حال یوز آسف کا عیسائی مذہب سے ایک تعلق مان لیا ہے اور اس کے ظہور کا بھی وہی زمانہ قرار دیا ہے جو سیح کا زمانہ تھا اور اس کی سوانح کا بڑی محبت اور دلچسپی سے ترجمہ بھی کیا اور اس کی یاد گار کا ایک گرجا بھی بنایا اور یہ بھی اقرار کیا اس کی تعلیم کا اخلاقی حصہ انجیل کی تعلیم سے ملتا ہے اور اس نے بھی اپنی تعلیم کا نام انجیل ہی رکھا ہے۔پس اس صورت میں اگر یوز آسف یسوع نہیں ہے تو یہ بارثبوت عیسائی صاحبوں کی گردن پر ہے کہ وہ ثابت کر کے دکھلا دیں کہ کبھی مسیح کا کوئی شاگرد شہزادہ نبی بھی کہلاتا تھا اور کبھی اس نے مسیح کی تعلیم کو اپنی تعلیم بھی قرار دیا اور اس کا نام انجیل رکھا اور میں بڑے دعوے اور ثبوت سے کہتا ہوں کہ یہ ثبوت ا ہرگز ان کے لئے ممکن نہیں کیونکہ ان کے نزدیک شاہزادہ نبی ایک ہی ہے یعنی یسوع ابن مریم۔اور یوز آسف کے حالات بیان کرنے کے بارے میں مسلمانوں کی کتابوں میں بعض ہزار برس سے زیادہ زمانہ کی تالیف میں جیسا کہ کتاب اکمال الدین جس میں یہ تمام باتیں درج ہیں اور اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یوز آسف نے جو شاہزادہ نبی تھا اپنی کتاب کا نام انجیل رکھا تھا۔ماسوا اس کتاب کے خاص سری نگر میں جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے ایسے پورا نے نوشتے اور تاریخی کتا ہیں پائی گئی ہیں جن میں لکھا ہے کہ نبی جس کا نام یوز آسف ہے اور اسے عیسی نبی بھی کہتے ہیں اور شاہزادہ نبی کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں یہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی ہے جو اس پورانے زمانہ میں کشمیر میں آیا تھا جس کو ان کتابوں کی تالیف کے وقت تک قریباً سولہ سو برس گزر گئے تھے یعنی اس موجودہ زمانہ تک انیس سو برس گزرا ہے اور اس قسم کی تحریریں کشمیر کے باشندوں کے پاس کچھ تھوڑی نہیں بلکہ بہت سی کتاب میں پائی جاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ اس جگہ کے ہندوؤں کے پاس بھی اپنی زبان میں ایک کتاب ہے جس میں اس شہزادہ نبی کا ذکر ہے۔پس ایک حق کے طالب کو یہ تمام ثبوت اس بات کے قبول کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں کہ در حقیقت یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔بالخصوص جبکہ ان تمام باتوں کو سیکھائی نظر سے دیکھا جائے کہ اول تو خود انجیل سے یہ پتہ لگتا ہے کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ وہ صلیب پر غشی کی حالت میں ہو گیا تھا جیسا کہ اس نے خود کہا کہ یونس نبی کا معجزہ دکھا یا جاوے گا۔پس اگر صلیب پر مر گیا تھا اور مردہ ہونے کی