تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 407

۴۰۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء ماسوا اس کے یہ امر سراسر غیر معقول ہے کہ ایک نبی اپنی فرض منصبی کونا تمام چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔مسیح کو اس بات کا اقرار ہے کہ اس کی اور بھی بھیٹر میں ہیں جن کو پیغام پہنچانا ضروری ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ یہودی جو دوسرے ملکوں میں منتشر ہو گئے تھے ابھی ان کو ہدایت کرنا باقی ہے۔پس صلیب سے مخلصی پا کر مسیح کا یہ فرض تھا کہ ان بدقسمت یہودیوں کو اپنے آنے سے مطلع کرتا جن کو اس کے آنے کی خبر بھی نہیں تھی کیونکہ وہ لوگ ہندوستان کے بعض حصوں میں خاص کر کشمیر میں مدت سے سکونت پذیر ہو گئے تھے اور مسیح نے خود اس بات کو بیان کر دیا تھا کہ یہ اس کا فرض ہے کہ منتشر شدہ بنی اسرائیل کو بھی ان سے ملاقات کر کے ان کو اپنی ہدایتوں سے فیض یاب کرے۔پس ایک راست باز کے بدن پر اس سے لرزہ پڑتا ہے کہ یہ گناہ عظیم مسیح کی طرف منسوب کر سکے کہ وہ منصبی کام کو نا تمام چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھا اور نہ ہم اس لغو اور بیہودہ امر کو خدائے حکیم کی طرف منسوب کر سکتے ہیں کہ وہ ایک زندہ شخص کو جس میں اچھے اچھے کام کرنے کی قوتیں موجود ہیں اور مخلوق کو اپنی ہدایتوں سے نفع پہنچا سکتا ہے تمام کاموں سے معطل کر کے آسمان پر بٹھا وے اور اس قیدی کی طرح جو قید محض میں ایام گزارتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا چھوڑ دے۔کیا مسیح کے لئے یہ بہتر تھا کہ وہ اپنی اس لمبی عمر کو بنی نوع انسان کی خدمت میں مصروف کرتا اور ہر ایک ملک میں سفر کر کے جیسا کہ خود اس کو ایک نبی سیاح سمجھا گیا ہے اپنی منتشر قوم کو فائدہ پہنچا تا یا یہ کہ اپنی تبلیغ کا کام نا تمام چھوڑ کر اور قوم کو طرح طرح کی گمراہیوں میں پاکر آسمان پر جا بیٹھتا۔بالخصوص ان بدقسمت لوگوں کا کیا گناہ تھا جنہوں نے ابھی اس کو دیکھا بھی نہیں تھا۔اور یہ کہ وہ مختلف ملکوں کا سیر کرتا ہوا آخر کشمیر میں چلا گیا اور تمام عمر وہاں سیر کر کے آخر سری نگر محلہ یارخاں میں بعد وفات مدفون ہوا۔اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آسف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا دور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شاہزادہ بھی کہلاتا تھا اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اسی ملک کا وہ باشندہ تھا اور اس کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی بلکہ بعض مثالیں اور بعض فقرے اس کی تعلیم کے بعینہ مسیح کے ان تعلیمی فقرات سے ملتے ہیں جو اب تک انجیلوں میں پائے جاتے ہیں اور عیسائی نہایت مجبور اور حیرت زدہ ہو کر اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ شخص جو یوز آسف اور شاہزادہ نبی کہلاتا ہے وہ مسیح کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد تھا۔اسی بناء پر اس کو بڑا مقدس سمجھا گیا ہے یہاں تک کہ سسلی میں اس کے نام کا ایک گرجا بھی بنایا ہوا ہے جو پورانا اور قدیم زمانہ سے ہے اور اسی تعلق کے قبول کرنے کے بعد