تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 406

۴۰۶ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء پاؤں پر نہیں تھیں۔چونکہ یہ عام قاعدہ نہ تھا کہ ہر ایک مصلوب کی ٹانگ توڑی جاوے اس واسطے تین انجیل نویسوں نے تو اس کا کچھ ذکر بھی نہیں کیا اور چوتھے نے صرف اپنی کسی خاص غرض کی تکمیل کے لئے اس کا ذکر کیا ہے اور جہاں نانگ توڑنے کا ذکر نہیں ہے تو ساتھ ہی برچھی کا واقعہ بھی کالعدم ہو جاتا ہے۔پس ظاہر أموت جو واقع ہوئی وہ ایک سخت بیہوشی تھی جو کہ چھ گھنٹے کے جسمانی اور دماغی صدموں کے بعد واقع ہوئی اور اس کے علاوہ گزشتہ شب بھی بیداری اور تکلیف میں گزری تھی۔جب اسے کافی صحت پھر حاصل ہو گئی تو اپنے حواریوں کو پھر یقین دلانے کے واسطے کئی دفعہ ملا لیکن یہودیوں کے ڈر سے وہ بڑی احتیاط سے نکلتا تھا۔حواریوں نے یہی سمجھا کہ وہ مر کر زندہ ہوا ہے اور چونکہ موت کی سی بیہوشی تک پہنچ کر وہ پھر بحال ہوا اس لئے ممکن ہے کہ اس نے خود بھی یہی خیال کیا ہو کہ میں مرکز پھر زندہ ہوا ہوں۔اب جب استاد نے دیکھا کہ اس ظاہری موت نے میرے کام کی تکمیل کر دی ہے تو پھر وہ کسی نا معلوم تنہائی کی جگہ میں چلا گیا اور مفقودالنخبر ہو گیا۔ایسا ہی مشہور و معروف رین اپنی کتاب میں لکھتا ہے ( لائف آف جیزس صفحہ ۲۶۹) یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یسوع کی موت کی اصلیت کی نسبت بہت شکوک پیدا ہو گئے تھے۔جولوگ صلیب پر موت کو دیکھنے کے عادی تھے وہ کبھی اس بات کو تسلیم کر ہی نہ سکتے تھے کہ چند گھنٹے صلیب پر رہ کر جیسا کہ یسوع رہا موت واقع ہوسکتی ہے۔وہ بہت ساری مثالیں مصلوب آدمیوں کی پیش کرتے تھے جن کو وقت پر صلیب سے اتارا گیا تو آخرکار علاج کرنے سے وہ بالکل شفایاب ہو گئے۔آری گن کا ابتدائی زمانہ کا ایک مشہور عیسائی فاضل ) کچھ عرصہ بعد یہ خیال تھا کہ اس قدر جلدی موت کا واقع ہونا مسیح کا معجزہ ہے۔یہی حیرت مرقس کے بیان میں بھی پائی جاتی ہے۔اب اس کے بعد ایک بھاری ثبوت اس بات کا کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے مخلصی پا کر آسمان کی طرف نہیں اُٹھائے گئے بلکہ کسی اور ملک کی طرف چلے گئے، ایک اور ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں لیکن قبل تحریر اس واقعہ کے ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ قصہ کہ گویا حضرت مسیح مصلوب ہونے کے بعد یا مصلوب ہونے سے پہلے آسمان پر چلے گئے تھے ایسا ایک بیہودہ قصہ ہے کہ ایک غور کرنے والی طبیعت اس کو بدیہی طور پر جھوٹا قرار دے گی۔خدا تعالی کا یہ عام قانون قدرت ہے کہ کوئی شخص مع جسم عصری آسمان پر نہیں جا سکتا اور نہ نازل ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس کی نظیر الیاس کا قصہ ہے کیونکہ الیاس کا قصہ جس کی دوبارہ آمد پر مسیح کی نبوت موقوف تھی۔آخر مسیح کی زبان سے ہی قابل تاویل ٹھہرا اور دوبارہ آنا اس کا محض ایک مجاز کے طور پر تصور کیا گیا۔پھر کیوں کر اعتبار کیا جائے کہ مسیح کے صعود اور نزول سے مراد حقیقی صعود اور نزول ہے۔جس امر کی دنیا کی ابتدا سے کوئی بھی نظیر نہیں اس امر پر اصرار کرنا اپنے تئیں ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنا ہے۔