تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 405
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۵ سورة النساء پھر چھٹی دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا یہ ہے کہ عیسائی فرقوں میں سے بعض فرقوں میں سے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی رنگ میں ہوگی نہ کہ حقیقی یعنی اس کی خو اور صفت پر کوئی اور آ جائے گا کیونکہ وہ مر چکا ہے۔چنانچہ نیولائف آف جیزس جلد اول صفحہ ۴۱۰ مصنفہ ڈی ایف سٹراس میں یہ عبارت ہے جس کا ترجمہ ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔جرمن کے محقق عیسائی یہ دلائل دیتے ہیں کہ اگر چہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے۔اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضا پر زور پڑنے کے سبب تشیخ میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں۔پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ قریب چھ گھنٹے صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا۔تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبودار دوائیاں مل کر اسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اس کی بیہوشی دور ہوئی۔اس دعوی کی دلیل میں عموماً یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ان میں سے میں نے پہنچانا کہ تین میرے واقف تھے۔پس میں نے ٹیٹس (حاکم وقت) سے ان کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور ان کو فوراً استار کر ان کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دومر گئے۔اور کتاب ماڈرن ڈوٹ اینڈ کر سچن بیلیف کے صفحہ ۴۵۵، ۴۵۷ میں یہ عبارت ہے جس ذیل میں ترجمہ لکھا جاتا ہے۔شیلر میجز اور نیز قدیم محققین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہر أموت کی سی حالت ہو گئی تھی اور قبر کے نکلنے کے بعد کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھرتارہا اور پھر دوسری یعنی اصل موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔ایسا ہی کتاب سوپر نیچرل ریجن کے صفحہ ۸۷۵ پر لکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ پہلی تفسیر جو بعض لائق محققین نے کی ہے وہ یہ ہے کہ یسوع در اصل صلیب پر نہیں مرا بلکہ صلیب سے زندہ اتار کر اس کا جسم اس کے دوستوں کے حوالہ کیا گیا اور وہ آخر بیچ نکلا۔اس عقیدہ کی تائید میں یہ دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ اناجیل کے بیان کے مطابق یسوع صلیب پر تین گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے رہ کر فوت ہوا۔لیکن صلیب پر ایسی جلدی کی موت کبھی پہلے واقع نہیں ہوئی تھی۔یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ صرف اس کے ہاتھوں پر میخیں لگائی گئی تھیں اور