تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 401
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ سورة النساء نہیں غرضیکہ ہر طرح سے یہ خیال باطل ہے اور شبہ لھم سے مراد مشبه بالمصلوب ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۲۹/اکتوبر ۸ نومبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۲۲، ۳۲۳) یہود کا اعتراض جو قرآن شریف میں درج ہے وہ یہی ہے کہ اِنا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ یعنی ہم نے مسیح کو قتل کیا چونکہ انہوں نے قتل کا لفظ بولا تھا۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے پہلے لفظ قتل کی ہی نفی کی۔دوم یہ کہ یہود میں دو روایتیں تھیں؛ ایک یہ کہ ہم نے یسوع کو تلوار سے قتل کر دیا ہے اور دوسرا یہ کہ اس کو صلیب پر مارا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہر دو کی جدا جد انفی کی۔تیسری بات یہ ہے کہ یہودیوں کی بعض پرانی کتب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یسوع کو پہلے سنگسار کیا گیا تھا اور جب وہ مر گیا تو بعد میں اس کو کاٹھ پر لٹکایا گیا۔یعنی پہلے قتل ہوا اور پیچھے صلیب۔پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی نفی کی اور فرمایا کہ یہود جھوٹے ہیں نہ حضرت مسیح ان کے ہاتھوں قتل ہوئے اور نہ صلیب کے ذریعے سے مارے گئے۔البدر جلد نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) انجیل کے دو مقام پر غور کرنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح سولی پر ہر گز نہیں مرا چنانچہ ایک جگہ مسیح خود اپنے قصہ کو یونس بن متی کے قصہ سے مشابہت دیتا ہے بلکہ اس قصہ کو بطور نشان کے قرار دیتا ہے اب ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ کے اندر نہیں مرا تھا اور نہ مردہ ہونے کی حالت میں شکم ماہی میں داخل ہوا تھا تو پھر اگر فرض کیا جائے کہ مسیح مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوا تھا تو یونس کے قصہ سے اس کے قصہ کو کسی طرح مشابہت نہیں رہتی۔پس یہ مثال جو اپنے لیے مسیح نے پیش کی ہے ایک دانشمند کے لیے بشرطیکہ اس کی عقل کسی تعصب یا عادت کے نیچے دبی ہوئی نہ ہو۔مسیح کی طرف سے ایک صاف گواہی ہے کہ وہ سولی پر نہیں مرا تھا اور قبر میں زندہ داخل ہوا تھا جیسا کہ یونس بھی مچھلی کے پیٹ میں زندہ ہی داخل ہوا تھا اور یونس نبی پر جو ابتلا آیا تھا اصل جڑھ اس کی وہ پیشگوئی تھی جو قوم کی نسبت اس نے کی تھی یعنی یہ کہ چالیس دن کے اندران پر عذاب نازل ہوگا اور وہ عذاب ان پر نازل نہ ہوا اس لیے یونس کے دل پر اس سے بہت صدمہ پہنچا کہ اس کی پیشگوئی غلط نکلی اور وہ قوم سے ڈر کر کسی دوسرے ملک کی طرف بھاگ گیا۔اسی طرح مسیح ابن مریم پر جو ابتلا آیا اس کی جڑھ بھی اس کی وہ پیش گوئی تھی جو قوم کی نسبت اس نے کی تھی یعنی یہ کہ وہ اس قوم پر حکمران اور بادشاہ ہو جائے گا اور داؤد کا تخت اسے ملے گا مگر وہ پیش گوئی ان معنوں کی رو سے جو سیح نے کبھی پوری نہ ہوئی اور غلط نکلی اس لیے مسیح کو اس کی وجہ سے بہت صدمہ پہنچا اور وہ جیسا کہ اس نے انجیل میں اشارہ کیا ہے ارادہ رکھتا تھا کہ یونس کی طرح کسی اور ملک کی طرف بھاگ جائے کیونکہ اس نے کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے