تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 394
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة النساء یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسی کو قتل کر دیا اس قول سے یہودیوں کا مطلب یہ تھا کہ عیسی کا مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا پیغمبر قتل کیا جاتا ہے پس خدا نے اس کا جواب دیا کہ عیسی قتل نہیں ہوا بلکہ ایمانداروں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کا رفع ہوا۔( برا این احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۳۷ حاشیه ) (سوال پیش ہوا کہ ) آیت کریمہ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ مِیں یہ شبہ باقی ہے کہ لفظ بَلْ فقره رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ و مَا قَتَلُوهُ یقینا کے ساتھ ایک خاص ربط بخشتا ہے جس سے ان دونوں واقعات کا با ہم اتصال سمجھا جاتا ہے پس یہ بظاہر مقتضی اس بات کا ہے کہ واقع رفع کا زمانہ واقع قتل کے زمانہ کے ساتھ متحد و متصل ہو اور دونوں زمانوں میں کچھ فاصلہ نہ ہو حالانکہ حضرت کے بیان مبارک کے مطابق واقع رفع کے زمانہ اور واقع قتل کے زمانہ میں بہت فاصلہ اور ایک دور دراز مدت ہے۔اس تقدیر میں اگر آیت قرآن شریف کی اس طرح ہوتی کہ مَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا بَلْ خَلَصَهُ اللهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ حَيَّا ثُمَّ رَفَعَهُ إِلَيْهِ تَبْ البتہ یہ معنے ظاہر ہوتے۔“ فرمایا) یه شبه صرف سرسری خیال سے آپ کے دل میں پیدا ہوا ہے ورنہ اگر اصل واقعات آپ کے ملحوظ خاطر ہوتے تو یہ شبہ ہرگز پیدا نہ ہو سکتا۔اصل بات تو یہ تھی کہ توریت کی رو سے یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر نبوت کا دعوی کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ مفتری ہوتا ہے سچا نبی نہیں ہوتا اور اگر کوئی صلیب دیا جائے تو وہ لعنتی ہوتا ہے اور اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا ہے۔اور یہودیوں کا حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ قتل بھی کیے گئے اور صلیب بھی دیئے گئے بعض کہتے ہیں کہ پہلے قتل کر کے پھر صلیب پر لٹکائے گئے اور بعض کہتے ہیں کہ پہلے صلیب دے کر پھر ان کو قتل کیا گیا۔پس ان وجوہ سے یہودی لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع روحانی کے منکر تھے اور اب تک منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ قتل کیے گئے اور صلیب دیئے گئے اس لیے ان کا خدا تعالیٰ کی طرف مومنوں کی طرح رفع نہیں ہوا۔یہودیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ کافر کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا مگر مومن مرنے کے بعد خدا تعالی کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور ان کے زعم میں حضرت عیسی مصلوب ہو کر نعوذ باللہ کا فر اور لعنتی ہو گئے اس لیے وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے نہیں گئے۔یہ امر تھا جس کا قرآن شریف نے فیصلہ کرنا تھا پس خدا تعالیٰ نے ان آیات سے جو اوپر ذکر ہو چکی ہیں یہ فیصلہ کر دیا چنانچہ آیت وَ مَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اسی فیصلہ کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ رفع الی اللہ