تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 387
۳۸۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء نبیوں اور ماموروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ان کے ہاتھ سے اس طرح بھی بچا لیتا ہے کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا حالانکہ موت تک اس کی نوبت نہیں پہنچتی اور یا وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا حالانکہ وہیں چھپا ہوا ہوتا ہے اور ان کے شر سے بچ جاتا ہے۔پس شُبّهَ لَهُمْ کے یہی معنی ہیں اور یہ فقرہ شبّه لَهُمُ صرف حضرت مسیح سے خاص نہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں ڈالے گئے تب بھی یہ عادت اللہ ظہور میں آئی ابراہیم آگ سے جدا نہیں کیا گیا اور نہ آسمان پر چڑھایا گیا لیکن حسب منطوق آیت قُلْنَا ينارُ كُون بَردا آگ اس کو جلا نہ سکی۔اسی طرح یوسف بھی جب کو ئیں میں پھینکا گیا آسمان پر نہیں گیا بلکہ کنواں اس کو ہلاک نہ کر سکا اور ابراہیم کا پیارا فرزند اسماعیل بھی ذبح کے وقت آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا (۔۔۔۔) تھا بلکہ چھری اس کو ذبح نہ کر سکی ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محاصرہ غار ثور کے وقت آسمان پر نہیں گئے بلکہ خونخوار دشمنوں کی آنکھیں ان کو دیکھ نہیں سکیں اسی طرح مسیح بھی صلیب کے وقت آسمان پر نہیں گیا بلکہ صلیب اس کو قتل نہیں کر سکا۔غرض ان تمام نبیوں میں سے کوئی بھی مصیبتوں کے وقت آسمان پر نہیں گیا ہاں آسمانی فرشتے ان کے پاس آئے اور انہوں نے مدد کی یہ واقعات بہت صاف ہیں اور صاف طور پر ان سے ثبوت ملتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر نہیں گئے اور ان کا اسی قسم کا رفع ہوا جیسا کہ ابراہیم اور تمام نبیوں کا ہوا تھا اور وہ آخر وفات پاگئے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۳۷ تا ۳۳۹) قرآن شریف یہود و نصاری کی غلطیوں اور اختلافات کو دور کرنے کے لیے آیا ہے۔اور قرآن شریف کی کسی آیت کے معنے کرنے کے وقت جو یہود و نصاریٰ کے متعلق ہو یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ ان میں کیا جھگڑا تھا جس کو قرآن شریف فیصلہ کرنا چاہتا ہے اب اس اصول کو مد نظر رکھ کر اس آیت کے معنے کہ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شَيْهَ لَهُمْ۔۔۔۔۔بَلْ تَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ بڑی آسانی سے ایک منصف مزاج سمجھ سکتا ہے۔کیونکہ یہود کے عقیدہ کے رو سے جو شخص صلیب کے ذریعہ سے قتل کیا جائے وہ ملعون ہوتا ہے اور اس کا رفع روحانی خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور وہ شیطان کی طرف جاتا ہے اب خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ حضرت عیسی کا رفع روحانی خدائے تعالیٰ کی طرف ہوا یا نہ ہوا۔سوخدا نے اوّل یہود کے اس وہم کو مٹایا کہ حضرت عیسی بذریعہ صلیب قتل ہو چکے ہیں اور فرمایا کہ یہود کا صرف یہ ایک شبہ تھا جو خدا نے ان کا کے دلوں میں ڈال دیا عیسی بذریعہ صلیب قتل نہیں ہوا تا اس کو ملعون قرار دیا جائے بلکہ اس کا رفع روحانی ہوا