تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 385

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۵ سورة النساء ویسا ہی حضرت عیسی کو بھی انہیں کے رنگ میں پایا اور ان کے ساتھ پا یا کوئی نرالا جسم نہیں دیکھا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۸ تا ۴۰) کہتے ہیں کہ آیت مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ حضرت عیسی کی حیات پر دلالت کرتی ہے ان کی ایسی سمجھ پر رونا آتا ہے کیا جو شخص مصلوب نہیں ہوتا وہ مرتا نہیں ؟ میں نے بار بار بیان کیا ہے کہ قرآن شریف میں نفی صلیب اور رفع عیسی کا ذکر اس لیے نہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت عیسی کی حیات ثابت کرے بلکہ اس لیے یہ ذکر ہے کہ تا یہ ثابت کرے کہ عیسی لعنتی موت سے نہیں مرا اور مومنوں کی طرح اس کا رفع روحانی ہوا ہے اس میں یہود کا رو مقصود ہے کیونکہ وہ ان کے رفع ہونے کے منکر ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۱ حاشیه ) وَفِي آيَةٍ : وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ إِشَارَةُ اور آیت وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ میں ایک اور بھی أُخْرَى، وَهِيَ أَنَّ النَّصَارَی زَعَمُوا أَنَّ اشارہ ہے اور وہ یہ کہ نصاریٰ کا خیال ہے کہ انہیں عِيسَى صُلِبَ لأَجْلِ تَطْهِيرِهِمْ مِن گناہوں سے پاک کرنے کی خاطر حضرت عیسی علیہ السلام الْمَعَاصِي وَظَنُّوا كَأَنَّهُ حَمَلَ بَعْدَ کو سولی دیا گیا اور ان کا یہ بھی خیال ہے کہ صلیبی موت کے الصَّلْبِ جَمِيعَ ذُنُوبِهِمُ عَلى نَفْسِهِ، وَهُوَ بعد حضرت مسیح نے ان کے تمام گناہ اپنے اوپر اٹھالیے اور كَفَّارَةٌ لَّهُمْ وَمُطَهَّرُهُمْ مِنْ جَميع وہ ان کے لیے کفارہ ہو گئے اور انہیں تمام گناہوں اور الْمَعَاصِي وَالْخَطِيئَاتِ فَفِي نَفْيِ الصَّلْبِ خطاؤں سے پاک کرنے والے ہیں پس صلیب کی نفی میں رَدُّ عَلَى النَّصَارَى وَهَدُمُ نِعَقِيدَة نصاری کا رد اور ان کے عقیدہ کفارہ کا توڑ ہے اور اس کے الْكَفَّارَةِ، وَمَعَ ذَلِكَ رَدُّ عَلَى الْيَهُودِ ساتھ ہی یہود کا بھی رد ہے اور ان کے اس مکر کی بھی بیخ کنی وَاسْتيْصَالُ لِكَيْدِهِمُ الَّذِي احْتَالُوا ہے جو انہوں نے تو رات کی آڑ لے کر اختیار کیا۔نیز اس اعْتِصَامًا بِالتَّوْرَاةِ، وَإِظْهَارُ بَرِيَّةِ میں ان قوموں کے بہتان سے حضرت مسیح علیہ السلام کی عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ بُهْتَانِ تِلكَ بريت كا اظہار مقصود ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے الْأَقْوَامِ۔فَهَذَا هُوَ السَّبَبُ الَّذِى ذَكَرَ قرآن کریم میں حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیب دیئے الله قِضَةَ صَلْبِ عِيسَى فِي الْقُرْآنِ جانے کے قصہ کا ذکر کیا ہے اور اس کی تردید کی ہے ورنہ وَكَذَّبَه وَإِلَّا فَمَا كَانَ فَائِدَةٌ فِي ذِكْرِہ اس کے ذکر کا کوئی فائدہ نہ تھا ایسے کئی نبی گزرے ہیں جو وَكَمْ مِنْ نَّبِي قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَا خدا کی راہ میں قتل کئے گئے تھے۔لیکن قرآن کریم میں