تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 374

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۴ سورة النساء جائے کہ مسیح کہ جان نکل گئی تھی سچ ہے کہ انجیلوں میں ایسے لفظ موجود ہیں لیکن یہ اسی قسم کی انجیل نویسوں کی غلطی ہے جیسا کہ اور بہت سے تاریخی واقعات کے لکھنے میں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔انجیلوں کے محقق شارحوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ انجیل میں دو حصے ہیں (۱) ایک دینی تعلیم ہے جو حواریوں کو حضرت مسیح علیہ السلام سے ملی تھی جو اصل روح انجیل کا ہے۔(۲) دوسرے تاریخی واقعات ہیں ایسے حضرت عیسی کا شجرہ نسب اور ان کا پکڑا جانا اور مارا جانا اور مسیح کے وقت میں ایک معجزہ نما تالاب کا ہونا وغیرہ یہ وہ امور ہیں جو لکھنے والوں نے اپنی طرف سے لکھے تھے۔سو یہ باتیں الہامی نہیں ہیں بلکہ لکھنے والوں نے اپنے خیال کے موافق لکھی ہیں اور بعض جگہ مبالغہ بھی حد سے زیادہ کیا ہے جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ جس قدر مسیح نے کام کیے یعنی معجزات دکھلائے اگر وہ کتابوں میں لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سمانہ سکتیں۔یہ کس قدر مبالغہ ہے۔ما سوا اس کے ایسے بڑے صدمہ کو جو مسیح پر وارد ہوا تھا موت کے ساتھ تعبیر کرنا خلاف محاورہ نہیں ہے ہر ایک قوم میں قریباً یہ محاورہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص ایک مہلک صدمہ میں مبتلا ہو کر پھر آ خریچ جائے اس کو کہا جاتا ہے کہ نئے سرے زندہ ہوا اور کسی قوم اور ملک کے محاورہ میں ایسی بول چال میں کچھ بھی تکلف نہیں۔ان سب امور کے بعد ایک اور بات ملحوظ رکھنے کے لائق ہے کہ برنباس کی انجیل میں جو غالباً لندن کے کتب خانہ میں بھی ہوگی یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور نہ صلیب پر جان دی۔اب ہم اس جگہ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ گو یہ کتاب انجیلوں میں داخل نہیں کی گئی اور بغیر کسی فیصلہ کے رد کر دی گئی ہے مگر اس میں کیا شک ہے کہ یہ ایک پرانی کتاب ہے اور اسی زمانہ کی ہے جبکہ دوسری انجیلیں لکھی گئیں کیا ہمیں اختیار نہیں ہے کہ اس پرانی اور دیرینہ کتاب کو عہد قدیم کی ایک تاریخی کتاب سمجھ لیں اور تاریخی کتابوں کے مرتبہ پر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھاویں ؟ اور کیا کم سے کم اس کتاب کے پڑھنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مسیح علیہ السلام کے صلیب کے وقت تمام لوگ اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے۔پھر ماسوا اس کے جبکہ خودان چار انجیلوں میں ایسے استعارات موجود ہیں کہ ایک مردہ کو کہہ دیا ہے کہ یہ سوتا ہے مرا نہیں تو اس حالت میں اگر غشی کی حالت میں مردہ کا لفظ بولا گیا تو کیا یہ بعید ہے ہم لکھ چکے ہیں کہ نبی کے کلام میں ہم جھوٹ جائز نہیں۔مسیح نے اپنی قبر میں رہنے کے تین دن کو یونس کے تین دنوں سے مشابہت دی ہے۔اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ یونس تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا ایسا ہی مسیح بھی تین دن قبر میں زندہ رہا اور یہودیوں میں اس وقت کی قبریں اس زمانہ کی قبروں کے مشابہ نہ تھیں بلکہ وہ ایک کو ٹھے کی طرح اندر ،۔