تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 22
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ سورة ال عمران ،، روو فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَ جَلَّ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ آيت : قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ فَانظُرْ كَيْفَ الله میں اشارہ فرمایا پس دیکھو! کس طرح اللہ تعالیٰ نے افراد امت کو اپنے محبوب قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ محبوبوں کے جَعَلَ الْأُمَّةَ أَحِبَّاءَ اللَّهِ بِشَرْطِ اتَّبَاعِهِمْ وَاقْتِدَ آئِهِمْ بِسَيْدِ الْمَحْبُوبِينَ۔سردار ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی کریں اور آپ کے (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد کے صفحہ (۱۳) نمونہ پر چلیں۔( ترجمہ از مرتب) چلیں۔(ترجمہ وو خدا نے انبیاء علیہم السلام کو اسی لئے اس دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں اُن کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبوت لغو ٹھہرتی ہے۔نبی اس لئے نہیں آتے کہ اُن کی پرستش کی جائے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ لوگ اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن سے تشبہ حاصل کریں اور اُن میں فنا ہو کر گویا وہی بن جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پس خدا جس سے محبت کرے گا کون سی نعمت ہے جو اُس سے اٹھارکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبہ فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہے۔اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگروہی جو جاہل، سفیہ یا ملحد بے دین ایام الضلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۱۲۰۴۱۱) ہوگا۔سوال مسیح نے اپنی نسبت یہ کلمات کہے: ” میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندے ہو کہ میں تمہیں 6 991 آرام دوں گا۔اور یہ کہ ”میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں، میں زندگی اور راستی ہوں۔کیا بانی اسلام نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کئے ہیں؟ الجواب۔قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے: قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله الخ۔یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے صحیح کے گذشتہ اقوال پر غالب ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے، اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۷۲) میرے نزدیک مومن وہی ہوتا ہے جو آپ کی اتباع کرتا ہے اور وہی کسی مقام پر پہنچتا ہے۔جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ۔یعنی کہہ دو کہ اگر تم اللہ