تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 23

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة ال عمران تعالیٰ کو محبت کرتے ہو تو میری اتباع کروتا کہ اللہ تمہیں اپنا محبوب بنالے۔اب محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ محبوب کے فعل کے ساتھ خاص موانست ہو اور مرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔آپ نے مرکز دکھا دیا۔پھر کون ہے جو زندہ رہے یا زندہ رہنے کی آرزو کرے یا کسی اور کے لئے تجویز کرے کہ وہ زندہ رہے؟ محبت کا تقاضا تو یہی ہے کہ آپ کی اتباع میں ایسا گم ہو کہ اپنے جذبات نفس کو تھام لے اور یہ سوچ لے کہ میں کس کی اُمت ہوں؟ ایسی صورت میں جو شخص حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں وہ کیوں کر آپ کی محبت اور اتباع کا دعوی کر سکتا ہے؟ اس لئے کہ آپ کی نسبت وہ گوارا کرتا ہے کہ مسیح کو افضل قرار دیا جاوے اور آپ کو مردہ کہا جاوے مگر اُس کے لئے وہ پسند کرتا ہے کہ زندہ یقین کیا جاوے۔(لیکچرلدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۶۳، ۲۶۴) میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے ستید و مولی فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا اُس پیروی سے پایا اور میں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اُس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے کہ سچی اور کامل پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔سو یا در ہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور دل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہو جاتا ہے۔پھر بعد اس کے ایک مصلی اور کامل محبت الہی باعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اور یہ سب نعمتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ - یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے بلکہ یک طرفہ محبت کا دعویٰ بالکل ایک جھوٹ اور لاف و گزاف ہے۔جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اُس سے محبت کرتا ہے۔تب زمین پر اُس کے لئے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اُس کی ڈال دی جاتی ہے اور ایک قوت جذب اُس کو عنایت ہوتی ہے اور ایک نور اُس کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ اُس کے ساتھ ہوتا ہے۔جب ایک انسان سچے دل سے خدا سے