تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 371

سورة النساء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رات میں یہ شخص صلیب پر ہو۔اس لیے جلدی سے انہوں نے اتار لیا اور دو چور جو ساتھ صلیب دیئے گئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں لیکن مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑیں کیونکہ پیلاطوس کے سپاہیوں نے جن کو پوشیدہ طور سمجھایا گیا تھا کہ دیا کہ اب نبض نہیں ہے اور یسوع مر چکا ہے۔مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ راست باز کا قتل کرنا کچھ سہل امر نہیں اس لیے اس وقت نہ صرف پیلاطوس کے سپاہی یسوع کے بچانے کے لیے تدبیریں کر رہے تھے بلکہ یہود بھی حواس باختہ تھے اور آثار قہر دیکھ کر یہودیوں کے دل بھی کانپ گئے تھے اور اس وقت وہ پہلے زمانہ کے آسمانی عذاب جو ان پر آتے رہے ان کی آنکھوں کے سامنے تھے اس لیے کسی یہودی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ یہ کہے کہ ہم تو ضرور ہڈیاں توڑیں گے اور ہم باز نہیں آئیں گے۔کیونکہ اس وقت رَبُّ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ نهایت غضب میں تھا۔اور جلال انہی یہودیوں کے دلوں پر ایک رعب ناک کام کر رہا تھا۔لہذا انہوں نے جن کے باپ دادے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے غضب کا تجربہ کرتے آئے تھے جب سخت اور سیاہ آندھی اور عذاب کے آثار دیکھے اور آسمان پر سے خوفناک آثار نظر آئے تو وہ سراسیمہ ہو کر گھروں کی طرف بھاگے۔اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ انجیل میں یونس نبی سے اپنی مشابہت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یونس کی طرح میں بھی قبر میں تین دن رہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں رہا تھا اب یہ مشابہت جو نبی کے منہ سے نکلی ہے قابل غور ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں رکھے گئے تھے تو پھر مردہ اور زندہ کی کس طرح مشابہت ہو سکتی ہے؟ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں مرار ہا تھا ؟ سو یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ ہر گز مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ وہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے پھر دوسری دلیل یہ ہے کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب میں دکھلایا گیا کہ اگر یہ شخص مارا گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے اب ظاہر ہے کہ اگر حقیقت میں عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے جاتے یعنی صلیبی موت سے مرجاتے تو ضرور تھا کہ جو فرشتہ نے پیلاطوس کی بیوی کو کہا تھا وہ وعید پورا ہوتا۔حالانکہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ پیلاطوس پر کوئی تباہی نہیں آئی تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح نے خود اپنے بچنے کے لیے تمام رات دعامانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الہی تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔چوتھی دلیل یہ ہے کہ صلیب پر پھر مسیح نے اپنے بچنے کے لیے یہ دعا کی ایلی ایلی لما سبقتانی اے میرے خدا! اے میرے خدا!" تو