تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 366
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۶ سورة النساء اور مقرب الہی ہونے کے لیے جسمانی رفع کی ضرورت ہے تو بموجب عقیدہ ان نادان علما کے لازم آتا ہے کہ صرف حضرت عیسی ہی خدا کے مقرب ہوں اور باقی تمام نبی جن کا جسمانی رفع جسم عنصری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوا وہ نعوذ باللہ قرب الہی سے بے نصیب ہوں۔اور جبکہ جسمانی رفع کچھ شے نہ تھا اور کسی نبی کے صادق اور مقرب الہی ہونے کے لیے جسمانی طور پر اس کا آسمان پر جانا ضروری نہ تھا تو کیوں کر ممکن تھا کہ خدا کی کلام میں جو پر حکمت ہے یہ فضول اور لغو اور بے تعلق جھگڑا شروع کیا جاتا۔حالانکہ یہود کا یہ مدعا اور جاتا۔حالانکہ مقصود نہ تھا کہ حضرت مسیح کے رفع جسمانی میں بخشیں کریں اور ایسی بحث سے ان کو کچھ حاصل نہ تھا ان کا تمام مقصد جس کے لیے ان کی قوم میں معاندانہ جوش پیدا ہوا تھا اور اب تک ہے صرف یہ تھا کہ وہ ان کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالیں کہ ان کا روحانی رفع نہیں ہوا اسی وجہ سے انہوں نے اپنی دانست میں ان کو صلیب دیا اور توریت میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی صلیب دیا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب اس کو میسر نہیں ہوتا دوسرے لفظوں میں یہ کہ رفع الی اللہ نہیں ہوتا بلکہ اسفل السافلین میں گرایا جاتا ہے پس یہ صلیب کا لفظ اور جو اس کا نتیجہ لعنت بیان کیا گیا ہے یہی پکار پکار گواہی دے رہا ہے کہ یہود کا تمام شور و غوغا اس وقت یہی تھا کہ صلیب ملنے سے مسیح کا لعنتی ہونا ثابت ہے اور لعنتی ہونے سے عدم رفع ثابت۔پس جو جھوٹا الزام لگایا گیا تھا خدا نے اس کا فیصلہ کرنا تھا۔ہاں اگر مصلوب ہونے کا نتیجہ توریت کے رو سے یہ بیان کیا جاتا کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا جسمانی رفع نہیں ہوتا تو ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ مسیح کو جسمانی طور پر آسمان پر پہنچا تا اور کچھ بھی شبہ نہ رہنے دیتا مگر اب تو یہ خیال سراسر بے تعلق اور اصل جھگڑے اور اس کے فیصلہ سے کچھ لگاؤ نہیں رکھتا اور خدا تعالیٰ کی شان اس سے منزہ ہے کہ اس بیہودہ اور لغو اور بے تعلق امر کی بحث میں اپنے تئیں ڈالے۔خدا کی تعلیمیں نجات اور قرب الہی کی راہیں بتلاتی ہیں اور ان الزموں کا نبیوں پر سے ذب اور دفع کرتی ہیں جن کی رو سے ان کے مقرب اور ناجی ہونے پر حرف آتا ہے مگر آسمان پر اس جسم کے ساتھ چڑھ جانا نجات اور قرب الہی سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ورنہ ماننا پڑتا ہے کہ بجر حضرت مسیح کے نعوذ باللہ باقی تمام نبی نجات اور قرب الہی سے محروم ہیں اور یہ خیال صریح کفر ہے۔ہمارے نادان مولوی اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ تمام جھگڑا رفع اور عدم رفع کا صلیب کے مقدمہ سے شروع ہوا ہے یعنی توریت نے صلیب پر مرنے والوں کو روحانی رفع سے محروم ٹھہرایا ہے۔پھر اگر توریت کے معنے یہ کیے جائیں کہ صلیب پر مرنے والا رفع جسمانی سے بے نصیب رہتا ہے تو ایسے عدم رفع سے نبیوں