تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 364
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ سورة النساء 6 یوحنا یعنی یحیی زکریا کا بیٹا ہے مگر یہ تاویل یہودیوں کو پسند نہ آئی ۔ اور جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے انہوں نے ان کو ملحد قرار دیا کہ جو نصوص کو ان کے ظاہر سے پھیرتا ہے لیکن چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت سچا نبی تھا اور ان کی تاویل بھی گو بظاہر کیسی ہی بعید از قیاس تھی مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک درست تھی اس لیے بعض لوگوں کے دلوں میں یہ بھی خیال تھا کہ اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو راستبازی کے انوار کیوں اس میں پائے جاتے ہیں اور کیوں سچے رسولوں کی طرح اس سے نشان ظاہر ہوتے ہیں پس اس خیال کے دور کرنے کے لیے یہودیوں کے مولوی ہر وقت اسی تدبیر میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ شخص نعوذ باللہ کا ذب اور ملعون ہے آخران کو یہ بات سوجھی کہ اگر اس کو صلیب دی جائے تو البتہ ہر ایک پر صاف طور پر ثابت ہو جائے گا کہ یہ شخص نعوذ باللہ لعنتی ہے اور اس رفع سے بے نصیب ہے جو راستبازوں کا خدا تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے اور اس سے اس کا کا ذب ہونا ثابت ہوگا کیونکہ توریت میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ لعنتی ہے یعنی اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔ سو انہوں نے اپنی دانست میں ایسا ہی کیا یعنی صلیب دیا اور یہ امر نصاری پر بھی مشتبہ ہو گیا اور انہوں نے بھی گمان کیا کہ حضرت مسیح حقیقت میں مصلوب ہو گئے ہیں اور پھر اس اعتقاد سے یہ دوسرا عقیدہ بھی انہیں اختیار کرنا پڑا کہ وہ لعنتی بھی ہیں مگر لعنت کے چھپانے کے لیے اور اس کا کلنک دور کرنے کے لیے یہ تجویز سوچی گئی کہ ان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بنایا جائے ایسا بیٹا جس نے دنیا کے تمام گنہ گاروں کی لعنتیں اپنے سر پر اٹھا لیں اور بجائے دوسرے ملعونوں کے آپ ملعون بن گیا اور پھر ملعونوں کی موت سے مرا یعنی مصلوب ہوا ۔ کیونکہ بنی اسرائیل میں قدیم سے یہ رسم تھی کہ جرائم پیشہ اور قتل کے مجرموں کو بذریعہ صلیب ہی ہلاک کیا کرتے تھے اس مناسبت سے صلیبی موت لعنتی موت شمار کی گئی تھی مگر عیسائیوں کو یہ بڑا دھو کہ لگا کہ انہوں نے اپنے پیر و مرشد اور نبی کو ملعون ٹھہرایا وہ بہت ہی شرمندہ ہوں گے جب وہ اس بات پر غور کریں گے کہ لعنت کا مفہوم لغت کی رو سے اس بات کو چاہتا ہے کہ شخص ملعون در حقیقت خدا سے مرتد ہو گیا ہو۔ کیونکہ لعنت ایک خدا کا فعل ہے اور یہ فعل انسان کے اس فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے کہ جب انسان عمداً بے ایمان ہو کر خدا تعالیٰ سے تمام تعلقات توڑ دے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس سے بیزار ہو جائے سو جب ایسے شخص سے خدا بھی بیزار ہو جائے اور اس کو اپنی درگاہ سے رد کر دے اور اس کو دشمن پکڑے تو اس صورت میں اس مردود کا نام ملعون ہوتا ہے اور یہ امر ضروری ہوتا ہے کہ یہ شخص ملعون خدا سے بیزار ہو اور خدا تعالیٰ اس سے بیزار ہو اور شخص ملعون خدا تعالیٰ کا دشمن ہو