تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 361

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۱ سورة النساء اور لاحاصل گیا ہو اور جس کی سفارش کے لیے آیا ہو وہ ہلاک ہو گیا ہو۔غرض یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس وقت کے یہودی اپنے ارادہ میں نامرادر ہے۔اور حضرت عیسی علیہ السلام جس کو ٹھے میں رکھے گئے تھے جو قبر کے نام سے مشہور تھا اور دراصل ایک بڑا وسیع کو ٹھا تھا وہ اس سے تیسرے دن بخیر و عافیت باہر آگئے اور شاگردوں کو ملے اور ان کو مبارک باد دی کہ میں خدا کے فضل سے دنیوی زندگی کے ساتھ بدستور اب تک زندہ ہوں اور پھر ان کے ہاتھ سے لے کر روٹی اور کباب کھائے اور اپنے زخم ان کو دکھلائے اور چالیس دن تک ان کے ان زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج ہوتا رہا جس کو قرابادینوں میں مرہم عیسی یا مرہم رسل یا مرہم حوار بین کے نام سے موسوم کرتے ہیں یہ مرہم چوٹ وغیرہ کے زخموں کے لیے بہت مفید ہے اور قریباً طب کی ہزار کتاب میں اس مرہم کا ذکر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لیے اس کو بنایا گیا تھا وہ پرانی طب کی کتابیں عیسائیوں کی جو آج سے چودہ سو برس پہلے رومی زبان میں تصنیف ہو چکی تھیں اُن میں اس مرہم کا ذکر ہے اور یہودیوں اور مجوسیوں کی طبابت کی کتابوں میں بھی یہ نسخہ مرہم عیسی کا لکھا گیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم الہامی ہے اور اس وقت جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر کسی قدر زخم پہنچے تھے انہیں دنوں میں خدا تعالیٰ نے بطور الہام یہ دوائیں ان پر ظاہر کی تھیں۔یہ مرہم پوشیدہ راز کا نہایت یقینی طور پر پتہ لگاتی ہے اور قطعی طور پر ظاہر کرتی ہے کہ در حقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے تھے کیونکہ اس مرہم کا تذکرہ صرف اہل اسلام کی ہی کتابوں میں نہیں کیا گیا بلکہ قدیم سے عیسائی یہودی ، مجوسی اور اطباء اسلام اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کرتے آئے ہیں اور نیز یہ بھی لکھتے آئے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لیے یہ مرہم طیار کی گئی تھی حسن اتفاق سے یہ سب کتابیں موجود ہیں اور اکثر چھپ چکی ہیں اگر کسی کو سچائی کا پتہ لگانا اور راستی کا سراغ چلا نا منظور ہو تو ضرور ان کتابوں کا ملاحظہ کرے شاید آسمانی روشنی اس کے دل پر پڑ کر ایک بھاری بلا سے نجات پا جائے اور حقیقت کھل جائے اس مرہم کو ادنی ادنی طبابت کا مذاق رکھنے والے بھی جانتے ہیں یہاں تک کہ قرابادین قادری میں بھی جو ایک فارسی کی کتاب ہے تمام مرہموں کے ذکر کے باب میں اس مرہم کا نسخہ بھی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہی مرہم حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے بنائی گئی تھی پس اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ دنیا کے تمام طبیبوں کے اتفاق سے جو ایک گروہ خواص ہے جن کو سب سے زیادہ تحقیق کرنے کی عادت ہوتی ہے اور مذہبی تعصبات سے پاک ہوتے ہیں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لیے طیار کی تھی۔