تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 356
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۶ سورة النساء سے کھول دیا ہے۔ اے خدا جانم بر اسرارت فدا امیاں را مے وہی فہم و ذکا در جهانت ہمچو من امی کجاست در جہالت با مرا نشونماست کر سکے بودم مرا کردی بشر من عجب تر از مسیح بے پدر اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ مسیح کی عدم مصلوبیت پر انجیل کی رو سے کوئی استدلال پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں یعنی یہ ثات ہو سکتا ہے یا نہیں کہ گو بظاہر صورت مسیح کو صلیب ہی دی گئی ہو مگر تکمیل اس فعل کی نہ ہوئی ہو یعنی اس صلیب کی وجہ سے وفات یاب نہ ہوا ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اناجیل اربعہ قرآن شریف کے اس قول پر کہ وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ صاف شہادت دت دے رہی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا منشا ما صَلَبُوهُ کے لفظ سے یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسیح صلیب پر چڑھا یا نہیں گیا بلکہ منشاء یہ ہے کہ جو صلیب پر چڑھانے کا اصل مدعا تھا یعنی قتل کرنا اس سے خدائے تعالیٰ نے مسیح کو محفوظ رکھا اور یہودیوں کی طرف سے اس فعل یعنی قتل عمد کا اقدام تو ہوا مگر قدرت اور حکمت الہی سے تکمیل نہ پاسکا اور جیسا کہ انجیلوں میں لکھا ہے یہ واقعہ پیش آیا کہ جب پلاطوس سے صلیب دینے کے لیے یہودیوں نے مسیح کو جو حوالات میں تھا مانگا تو پلاطوس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح مسیح کو چھوڑ دے کیونکہ وہ صاف دیکھتا تھا کہ مسیح بے گناہ ہے لیکن یہودیوں نے بہت اصرار کیا کہ اس کو صلیب دے صلیب دے اور سب مولوی اور فقیہ یہودیوں کے اکٹھے ہو کر کہنے لگے کہ یہ کافر ہے اور توریت کے احکام سے لوگوں کو پھیرتا ہے۔ پلا طوس اپنے دل میں خوب سمجھتا تھا کہ ان جزئی اختلافات کی وجہ سے ایک راست باز آدمی کو قتل کر دینا بے شک سخت گناہ ہے اسی وجہ سے وہ حیلے پیدا کرتا تھا کہ کسی طرح مسیح کو چھوڑ دیا جائے مگر حضرات مولوی کب باز آنے والے تھے۔ انہوں نے جھٹ ایک اور بات بنائی کہ یہ شخص یہ بھی کہتا ہے کہ میں یہودیوں کا بادشاہوں اور در پردہ قیصر کی گورنمنٹ سے باغی ہے اگر تو نے اس کو چھوڑ دیا تو پھر یا در رکھ کہ ایک باغی کو تو نے پناہ دی تب پلاطوس ڈر گیا کیونکہ وہ قیصر کا ماتحت تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پھر بھی اس خون ناحق سے ڈرتا رہا اور اس کی عورت نے خواب دیکھی کہ یہ شخص راست باز ہے اگر پلاطوس اس کو قتل کرے گا تو پھر اسی میں اس کی تباہی ہے سو پلاطوس اس خواب کو سن کر اور بھی ڈھیلا ہو گیا اس خواب پر غور کرنے سے جو انجیل میں لکھی ہے ہر یک ناظر بصیر سمجھ سکتا ہے کہ ارادہ الہی یہی تھا کہ مسیح کو قتل ہو جانے سے بچاوے سو پہلا اشارہ