تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 352

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۲ سورة النساء اور رسول کا وجود چقماق کی طرح جو اس پتھر پر ضرب تو جہ لگا کر اس آگ کو باہر نکالتا ہے پس ہر گز ممکن نہیں کہ بغیر رسول کی چقماق کے توحید کی آگ کسی دل میں پیدا ہو سکے توحید کو صرف رسول زمین پر لاتا ہے اور اسی کی معرفت یہ حاصل ہوتی ہے خدا مخفی ہے اور وہ اپنا چہرہ رسول کے ذریعہ دکھلاتا ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۰ ، ۱۳۱) یعنی جو لوگ ایسا ایمان لانا نہیں چاہتے جو خدا پر بھی ایمان لاویں اور اس کے رسولوں پر بھی اور چاہتے ہیں کہ خدا کو اس کے رسولوں سے علیحدہ کر دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں یعنی خدا پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر نہیں یا بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں اور ارادہ کرتے ہیں کہ بین بین راہ اختیار کر لیں۔ یہی لوگ واقعی طور پر کافر اور پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۱۷۴) فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِأَيْتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٌّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ یعنی خدا تعالیٰ نے بباعث ان کی بے ایمانیوں کے ان کے دلوں پر مہریں لگا جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۲۳۴) دیں۔ و بِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَ إِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيْهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَ كَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (۱۵۹) اس آیت میں دونوں جملوں کا جواب ہے اور خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ نہ تو عیسیٰ کی ناجائز ولادت ہے اور نہ وہ صلیب پر مرا بلکہ دھوکے سے سمجھ لیا گیا کہ مر گیا ہے اس لیے وہ مقبول ہے اور اس کا اور نبیوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہو گیا ہے۔ اب کہاں ہیں وہ مولوی جو آسمان پر حضرت عیسیٰ کا جسم پہنچاتے ہیں یہاں تو سب جھگڑا ان کی روح کے متعلق تھا جسم سے اس کو کچھ علاقہ نہیں ۔ اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۱) مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمُ اس سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ مسیح فوت نہیں ہوا کیا مرنے کے