تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 348

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة النساء نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو۔بیس برس کے قریب عرصہ ہو گیا کہ میں نے اسی بارہ میں ایک اشتہار دیا تھا اور قرآنی آیات لکھ کر اور عیسائیوں وغیرہ کو ایک رقم کثیر بطور انعام دینا کر کے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ جیسے ان آیات میں راست گوئی کی تاکید ہے اگر کوئی عیسائی اس زور وشور کی تاکید انجیل میں سے نکال کر دکھلا دے تو اس قدر انعام اس کو دیا جائے گا مگر پادری صاحبان اب تک ایسے چپ رہے کہ گویا ان میں جان نہیں اب مدت کے بعد فتح مسیح صاحب کفن میں سے بولے شاید بوجه امتداد زمانہ ہمارا وہ اشتہاران کو یاد نہیں رہا۔پادری صاحب آپ خس و خاشاک کو سونا بنانا چاہتے ہیں اور سونے کی کان سے منہ مروڑ کر ادھر ادھر بھاگتے ہیں اگر یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھیرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الإِجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قول الزور یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے یااَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اگر چہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھا دیں۔اب اے نا خدا ترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لیے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہیں۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَبِ الَّذِي نَزِّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَ الكتب الَّذِى اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرُ بِاللهِ وَمَلَيكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَ۔۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۰۲، ۴۰۳) الْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَللَّا بَعِيدان اے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور اس کی اس کتاب پر جو اس رسول پر نازل ہوئی ہے یعنی قرآن شریف پر اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو پہلے نازل ہوئی یعنی تو ریت وغیرہ پر اور جو شخص خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لائے گا وہ حق سے بہت دور جا پڑا یعنی نجات سے محروم رہا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۹) الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحُ مِنَ اللهِ قَالُوا الَم تَكُن لا مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَفِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَسْنَعْكُمْ مِّنَ