تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 348
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة النساء نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو۔ میں برس کے قریب عرصہ ہو گیا کہ میں نے اسی بارہ میں ایک اشتہار دیا تھا اور قرآنی آیات لکھ کر اور عیسائیوں وغیرہ کو ایک رقم کثیر بطور انعام دینا کر کے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ جیسے ان آیات میں راست گوئی کی تاکید ہے اگر کوئی عیسائی اس زور و شور کی تاکید انجیل میں سے نکال کر دکھلا دے تو اس قدر انعام اس کو دیا جائے گا مگر پادری صاحبان اب تک ایسے چپ رہے کہ گویا ان میں جان نہیں اب مدت کے بعد فتح مسیح صاحب کفن میں سے بولے شاید بوجه امتداد زمانہ ہمارا وہ اشتہاران کو یاد نہیں رہا۔ پادری صاحب آپ خس و خاشاک کو سونا بنانا چاہتے ہیں اور سونے کی کان سے منہ مروڑ کر ادھر ادھر بھاگتے ہیں اگر یہ بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھیرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اگر چہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں۔ اب اے نا خدا ترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لیے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہیں ۔ (نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۰۲، ۴۰۳) ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَبِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَ الكِتَبِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرُ بِاللَّهِ وَمَلَيكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَلًا بَعِيدًا اے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور اس کی اس کتاب پر جو اس رسول پر نازل ہوئی ہے یعنی قرآن شریف پر اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو پہلے نازل ہوئی یعنی تو ریت وغیرہ پر اور جو شخص خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لائے گا وہ حق سے بہت دور جا پڑا یعنی نجات سے محروم رہا۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۹) الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُنُ مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَفِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذُ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ