تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 347
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ سورة النساء میں نہیں جانتا کہ آریہ لوگ اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں۔( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۹) یعنی خدا ہر ایک چیز پر احاطہ کرنے والا ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۰) وَ اِنِ امْرَاةُ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا اَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُدْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ، وَأَحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّخَ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَ ۖ تَتَّقُوا فَانَ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيران - اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۹) الصلحُ خیر صلح میں خیر ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے۔وَالصُّلْحُ خَیر۔اس لیے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ ان کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چاہیے جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت کو گالیاں نکالتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے ہاں آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیا د بدظنی ہوتی ہے۔کو۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۷ /جون ۱۹۰۶ صفحه ۵) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلهِ وَ لَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُن غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى اَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَانَ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ اور چاہیے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لیے ہو۔جھوٹ مت بولوا گر چہ سچ بولنے سے تمہاری جانوں کو نقصان پہنچے یا اس سے تمہارے ماں باپ کو ضرر پہنچے اور قریبیوں کو جیسے بیٹے وغیرہ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۱) (عیسائیوں کا) ایک یہ اعتراض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپا لینے کے واسطے قرآن میں صاف حکم دے دیا ہے مگر انجیل نے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی۔اما الجواب۔پس واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کے لیے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہرگز باور