تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 346

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ سورة النساء زیادہ تر سچا اپنی باتوں میں اور کون ہے۔ اب خود منصف ہو کر بتلاؤ کہ کیا اس صریح وعدہ سے صرف اپنے ہی دل کے خیالات برابر ہو سکتے ہیں کیا کبھی یہ دونوں صورتیں یکساں ہو سکتی ہیں کہ ایک کو ایک راستباز کسی قدر مال دینے کا اپنی زبان سے وعدہ کرے اور دوسرے کو وہ راست باز اپنی زبان سے کچھ بھی وعدہ نہ کرے کیا مبشر اور غیر مبشر دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں اب اپنے ہی دل میں سوچو کہ زیادہ صاف اور کھلا ہوا اور با اطمینان وہ کام ہے کہ جس میں خدا کی طرف سے نیک اجر دینے کا وعدہ ہو یا وہ کام کہ جو فقط اپنے ہی دل کا منصوبہ ہو اور خدا کی طرف سے خاموشی ہو۔ کون دانا ہے کہ جو وعدہ کو غیر وعدہ سے بہتر نہیں جانتا کون سا دل ہے جو وعدہ کے لیے نہیں تڑپتا اگر خدا کی طرف سے ہمیشہ چپ چاپ ہی ہو تو پھر اگر خدا کی راہ میں کوئی محنت بھی کرے تو کس بھروسہ پر۔ کیا وہ اپنے ہی تصورات کو خدا کے وعدے قرار دے سکتا ہے ہر گز نہیں جس کا ارادہ ہی معلوم نہیں کہ وہ کون سا بدلہ دے گا اور کیوں کر دے گا اور کب تک دے گا اس کے کام پر کون خود بخود پختہ امید کر سکتا ہے اور نا امیدی کی حالت میں کیوں کر محنتوں اور کوششوں پر دل لگا سکتا ہے انسان کی کوششوں کو حرکت دینے والے اور انسان کے دل میں کامل جوش پیدا کرنے والے خدا کے وعدے ہیں انہیں پر نظر کر کے عقلند انسان اس دنیا کی محب کو چھوڑتا ہے اور ہزاروں پیوندوں اور تعلقوں اور زنجیروں سے خدا کے لیے الگ ہو جاتا ہے وہی وعدے ہیں کہ جو ایک آلودہ حرص و ہوا کو یکبارگی خدا کی طرف کھینچ لاتے ہیں جبھی کہ ایک شخص پر یہ بات بات کا کھل جاتی ہے کہ خدا کا کلام برحق ہے اور اس کا ہر ایک وعدہ ضرور ایک دن ہونے والا ہے تو اسی وقت دنیا کی محبت اس محبت اس پر سر د ہو جاتی ہے ایک دم میں وہ کچھ اور ہی چیز ہو جاتا ہے اور کسی اور ہی مقام پر پہنچ جاتا ہے خلاصہ کلام یہ کہ کیا ایمان کے رو سے اور کیا عمل کے رو سے اور کیا جزا سزا کی امید کے رو سے کھلا ہوا اور مفتوح دروازہ خدا کے سچے الہام اور پاک کلام کا دروازہ ہے وبس ۔ کلامِ پاک آن بیچون دید صد جامِ عرفاں را کسے کو بیخبر زان می چه داند ذوق ایمان را نه چشم است آنکه در کوری ہمہ عمرے بسر کر دست نه گوش ست آنکہ نہ شنیدست گا ہے قول جانان را ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۲۲، ۲۲۳ حاشیہ نمبر ۱۱) ع وَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطَانَ (۱۲۷) خداوہ ہے جو ہر یک چیز پر احاطہ کر رہا ہے۔ کیا ایسی پاک اور کامل (کتاب) کی نسبت کوئی عقلمند شبہ کر سکتا ہے کہ اس نے خدا کو جسم اور جسمانی ٹھیرا کر بزمرۂ عالمین داخل کر دیا ہے۔ مگر جو کچھ ویدوں پر وارد ہوتا ہے