تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 345
۳۴۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء اور کلام الہی کے رنگ میں نزول پکڑ کر تمام محن سینہ کو اس نور سے منور کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس معرفتِ تامہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کر چکے ہیں حاصل ہو جاتی ہے اور انسانی روح نہایت انکسار سے حضرت احدیت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میرا سو تیرا ہے۔یعنی بندہ کی روح بھی بولتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ یا الہی جو میرا ہے سو تیرا ہے اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے جو کچھ زمین آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۷ تا۱۸۹) رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم پر خدا کا بہت بڑا فضل تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيما اور اصل یہ ہے کہ انسان بچتا بھی فضل سے ہی ہے۔پس جس شخص پر خدا تعالی کا فضل عظیم ہو اور جس کو کل دنیا کے لیے مبعوث کیا گیا ہو اور جو رحمتہ للعالمین ہو کر آیا ہو۔اس کی عصمت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے۔عظیم الشان بلندی پر جو شخص کھڑا ہے ایک نیچے کھڑا ہوا اس کا مقابلہ کیا کرسکتا ہے؟ مسیح کی ہمت اور دعوت صرف بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں تک محدود ہے۔پھر اس کی عصمت کا درجہ بھی اسی حد تک ہونا چاہیے لیکن جو شخص کل عالم کی نجات اور رستگاری کے واسطے آیا ہے ایک دانشمند خودسوچ سکتا ہے کہ اس کی تعلیم کیسی عالمگیر صداقتوں پر مشتمل ہوگی اور اسی لیے وہ اپنی تعلیم اور تبلیغ میں کس درجہ کا معصوم ہو گا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ راگست ۱۹۰۲ صفحه ۵) حقیقت یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی فضیلت ہے جو کسی نبی میں نہیں ہے میں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔الحکم جلد نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۲) ہم قرآن سے کیا بلکہ کل کتابوں سے دکھا سکتے ہیں کہ جس قدر اخلاق اور خوبیاں کل انبیاء میں تھیں وہ سب کی سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع تھیں۔وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا اسی کی طرف اشارہ ہے۔( البدر جلد ۳ نمبر ۳۵ مورخه ۱۶ رستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۲) الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحْتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّتِ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الاَنْهرُ خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَعْدَ اللهِ حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللهِ قِيلًا یعنی خدا مومنین صالحین کو ہمیشہ کی بہشت میں داخل کرے گا خدا کی طرف سے یہ سچا وعدہ ہے اور خدا سے