تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 344

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ سورة النساء ہیں کہ جب تک کسی پر کسی جرم کا ثبوت نہ ہو وہ بری کہلائے گا کیونکہ انسان کے لیے بری ہونا طبعی حالت ہے اور گناہ ایک عارضہ ہے جو پیچھے سے لاحق ہوتا ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ جلد ۴۴۱ تا ۴۴۴) وَلَوْ لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَ اَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَب وَ b الحِكْمَةَ وَعَلَبِكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا یعنی خدا نے تجھ پر کتاب اُتاری اور حکمت یعنی دلائل حقیت کتاب و حقیت رسالت تجھ پر ظاہر کیے اور تجھے و علوم سکھائے جنہیں تو خود بخود جان نہیں سکتا تھا اور تجھ پر اس کا ایک عظیم فضل ہے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۶) وَ كَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظيما یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ و تک نہیں پہنچ سکتا۔یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب ۴۵ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں موجود ہے جیسا کہ فرمایا کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلدا صفحه ۶۰۶ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علوم عطا کیے جو تو خود بخود نہیں جان سکتا تھا اور فضل الہی سے فیضان الہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا یعنی تو معارف البہیہ اور اسرار اور علوم ربانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا غرض علم اور معرفت کو خدا تعالی نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اگر چہ حصول حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم وصلوۃ اور دعا اور تمام احکام الہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری عزاسمہ وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کب توفیق یا سکتا ہے کہ صوم اور صلوۃ بجالا وے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو ان سب اعمال صالح کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل در اصل اسی کے پیدا کردہ اور اس کے بنین و بنات ہیں اور ابتدا اس معرفت کی پر تو ہ اسم رحمانیت سے ہے نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ بلا علت فیضان سے صرف ایک موہت ہے يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يشاء۔مگر پھر یہ معرفت اعمال صالحہ اور حصن ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر الہام