تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 343

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۳ سورة النساء مستور الحال عورتوں پر ایسی تہمتیں لگایا کریں حالانکہ ایسا خیال کرنا اس مندرجہ ذیل آیت کے رو سے صریح حرام اور معصیت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَربَعَةِ شُهَدَاءِ فَاجْلِدُوهُمْ ثَنِينَ جَلْدَةً یعنی جو لوگ ایسی عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جن کا زنا کار ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ مستور الحال ہیں اگر وہ لوگ چار گواہ سے اپنے اس الزام کو ثابت نہ کریں تو ان کو اسی ڈڑے مارنے چاہئیں اب دیکھو کہ ان عورتوں کا نام خدا نے بڑی رکھا ہے جن کا زانیہ ہونا ثابت نہیں۔پس بری کے لفظ کی یہ تشریح بعینہ ڈسچارج کے مفہوم سے مطابق ہے کیونکہ اگر بری کا لفظ جو قرآن نے آیت يَرهِ په بریا میں استعمال کیا ہے صرف ایسی صورت پر بولا جاتا ہے کہ جبکہ کسی کو مجرم ٹھہرا کر اس پر فرد قرار داد جرم لگائی جائے اور پھر وہ گواہوں کی شہادت سے اپنی صفائی ثابت کرے اور استغاثہ کا ثبوت ڈیفنس کے ثبوت سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں ہر ایک شریر کو آزادی ہوگی کہ ایسی تمام عورتوں پر زنا کا الزام لگاوے جنہوں نے معتمد گواہوں کے ذریعہ سے عدالت میں ثابت نہیں کر دیا کہ وہ زانیہ نہیں ہیں خواہ وہ رسولوں اور نبیوں کی عورتیں ہوں اور خواہ صحابہ کی اور خواہ اولیاء اللہ کی اور خواہ اہل بیت کی عورتیں ہوں اور ظاہر ہے کہ آیت يَرو په بریا میں بری کے لفظ سے ایسے معنے کرنے صاف الحاد ہے جو ہرگز خدا تعالیٰ کا منشا نہیں ہے بلکہ بدیہی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں بری کے لفظ سے خدا تعالی کا یہی منشاء ہے کہ جو مستور الحال لوگ ہیں خواہ مرد ہیں خواہ عورتیں ہیں جن کا کوئی گناہ ثابت نہیں وہ سب بری کے نام کے مستحق ہیں اور بغیر ثبوت ان پر کوئی تہمت لگانا فسق ہے جس سے خدا تعالی اس آیت میں منع فرماتا ہے اور اگر کسی کو نبیوں اور رسولوں کی کچھ پرواہ نہ ہو اور اپنی ضد سے باز نہ آوے تو پھر ذرا شرم کر کے اپنی عورتوں کی نسبت ہی کچھ انصاف کرے کہ کیا اگر ان پر کوئی شخص ان کی عفت کے مخالف کوئی ایسی ناپاک تہمت لگاوے جس کا کوئی ثبوت نہ ہو تو کیا وہ عورتیں آیت پڑھ په بریا کی مصداق ٹھہر کر بری سمجھی جاسکتی ہیں اور ایسا تہمت لگانے والا سزا کے لائق ٹھہرتا ہے یاوہ محض اس حالت میں بڑی سمجھی جائیں گی جبکہ وہ اپنی صفائی اور پاک دامنی کے بارے میں عدالت میں گواہ گذرا نہیں اور جب تک وہ بذریعہ شہادتوں کے اپنی عفت کا عدالت میں ثبوت نہ دیں تب تک جو شخص چاہے ان کی عفت پر حملہ کیا کرے اور ان کو غیر بری قرار دے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ میں بار ثبوت تہمت لگانے والے پر رکھا ہے اور جب تک تہمت لگانے والا کسی گناہ کو ثابت نہ کرے تب تک تمام مردوں اور عورتوں کو بری کہلانے کے مستحق ٹھہرایا ہے۔پس قرآن اور زبان عرب کے رو سے بری کے معنے ایسے وسیع