تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 19

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹ سورة ال عمران العالمین بنوں اور ہمہ تن اسی کا اور اسی کی راہ کا ہو جاؤں۔سو میں نے اپنا تمام وجود اور جو کچھ میرا تھا خدا تعالیٰ کا کر دیا ہے اب کچھ بھی میر انہیں جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کا ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۵) اور اے پیغمبر ! اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں کو کہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔پس اگر اسلام قبول کر لیں تو ہدایت پاگئے اور اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الہی پہنچا دو۔اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم اُن سے جنگ کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کے لئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے اور یہ جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھا، نہ بحیثیت رسالت۔(چشمہ معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴۳) ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا ايَّامًا مَّعْدُودَةٍ وَغَرَّهُم في دِينِهِم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ عرب کے مشرکوں کی طرح اس ملک کے اہل کتاب بھی جرائم پیشہ ہو گئے تھے عیسائیوں نے تو کفارہ کے مسئلہ پر زور دے کر اور اس پر بھروسہ کر کے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم پر سب جرائم حلال ہیں اور یہودی کہتے تھے کہ ہم ارتکاب جرائم کی وجہ سے صرف چند روز دوزخ میں پڑیں گے اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا ايَّامًا معْدُودَتٍ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ( ترجمه ) یہ دلیری اور جرات اِس سے اُن کو پیدا ہوئی کہ اُن کا یہ قول ہے کہ دوزخ کی آگ اگر ہمیں چھوٹے گی بھی تو صرف چند روز تک رہے گی اور جو افترا پردازیاں وہ کرتے ہیں انہیں پر مغرور ہوکر اُن کے یہ خیالات ہیں۔ص (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳، صفحه ۲۴۲) قُلِ اللَّهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ ۲۷ b کہہ اے بار خدایا ! اے مالک الملک ! تو جسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین