تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 333

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ٣٣٣ سورة النساء قرآن شریف نے تو نکتہ چینی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔كَذلِكَ كُنتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَ اللهُ عَلَيْكُمْ يعنى تم بھی تو ایسے ہی تھے خدا نے تم پر احسان کیا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ مورخه ۲۶ /اپریل ۱۹۰۴ ء صفحه ۲) لا يَسْتَوِي الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالمُجْهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَى ، وَ فَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ عَلَى الْقَعِدِينَ اَجْرًا عَظِيمات قاعدین یعنی ست اور معمولی حیثیت کے لوگ اور خدا کی راہ میں کوشش اور سعی کرنے والے ایک برابر نہیں ہوتے۔یہ تجربہ کی بات ہے اور سالہائے دراز سے ایسا ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۲ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۲) وَمَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرغَبًا كَثِيرًا وَسَعَةً وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمان حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں لیکن میں کہتا ہوں کہ نہ صرف نبی بلکہ بجز اپنے وطن کے کوئی راست باز بھی دوسری جگہ ذلت نہیں اٹھا تا اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔۔۔۔۔جوشخص اطاعت الہی میں اپنے وطن کو چھوڑے تو خدائے تعالی کی زمین میں ایسے آرام گاہ پائے گا جن میں بلا حرج۔( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۲۶) دینی خدمت بجالا سکے۔اسباب کیا شے ہیں کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جاؤ گے تو مُرغَبًا كَثِيرًا پاؤ گے صحت نیت سے جو قدم اٹھاتا ہے خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ انسان اگر بیمار ہو تو اس کی بیماری دور ہو جاتی ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری / ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۵) وَ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوة اِن خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَفِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوا مُّبِينًا فرمایا جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے میری دانست میں جس سفر میں